اکولہ وناگپور میں بڑے پیمانے پر خریدوفروخت ہوئی: نواب ملک

ممبئی:این سی پی کے چیف قومی ترجمان اور اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے الزام لگایا کہ گوکہ بی جے پی نے اکولہ اور ناگپور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوئی ہے لیکن اس انتخاب میں بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔اس انتخاب میں ووٹروں کوبھاری رقم دے کر ان کے ووٹ خردینے کی کوشش ہوئی ہے جسے روکا جانا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح راجیہ سبھا میں اس ضمن میں قانون بنایا گیا ہے اسی طرح قانون بنایا جانا چاہئے۔

نواب ملک نے کہا کہ راجیہ سبھا میں پیسے لے کر کراس ووٹنگ ہوتی تھی جسے روکنے کے لئے پارلیمنٹ میں پارٹی وہیپ کے مطابق ووٹنگ کرنے کا قانون بنایا گیا ہے۔ ودھان پریشد کے بارے میں بھی پارلیمنٹ میں قانون بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کو اختیار ہوتو ہم اس ضمن میں قانون بنائیں گے لیکن اگر اختیار نہیں ہے تو حکومت پارلیمنٹ میں قانون بنائے تاکہ اس طرح کے انتخابات میں شفافیت آئے اور انتخاب کھلے طور پر ہوں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت سے ان مطالبات پر مبنی شفارش کی جائے گی۔

بی جے پی آئینی عہدے اور آئینی اداروں کے اختیارات ختم کررہی ہے

این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے بی جے پی پر براہ راست الزام لگایاہے کہ وہ ملک میں آئینی عہدوں وآئینی اداروں کے اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ممبرانِ اسمبلی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کی معطلی پر روک لگائی جائے، لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی درخواست کا نامنظور کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی سے کہا کہ اسے کم ازکم اب تو سمجھ لینا چاہئے کہ آئینی اداروں وآئینی عہدوں کے اختیارات کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ واضح رہے کہ معطلی کے خلاف سپریم کورٹ گئے بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی کی درخواست کو سپریم کورٹ نے نامنظور کرتے ہوئے انہیں اسمبلی کے اسپیکر سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ نواب ملک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔

نواب ملک نے کہا کہ بالآخر سپریم کورٹ نے آئینی اداروں و عہدوں کا احترام کرتے ہوئے اپنا فیصلہ دیا ہے۔بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے اسپیکر اور قانون ساز اسمبلی کے اس حق کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر کوئی ایم ایل اسمبلی میں بدتمیزی کرتا ہے تو اسے معطل کر دیا جائے، لیکن سپریم کورٹ نے آئینی ادارے اور عہدے کا احترام کرتے ہوئے اس درخواست پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔اس لئے اب کم ازکم بی جے پی کو آئینی اداروں وعہدوں کے اختیارات و ان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔

مرکزی حکومت پرم ویر سنگھ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ایک دن NIA کو سچ بتانا پڑے گا

این سی پی کے چیف ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت وبی جے پی کے ساتھ پرم ویرسنگھ کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے کا سودا ہوا تھا اور اسی لئے انیل دیشمکھ پر جھوٹے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ اب مرکزی ایجنسی پرم ویرسنگھ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے لیکن ایک دن این آئی اے کو بتانا پڑے گا کہ سچائی کیا ہے کیونکہ سچائی زیادہ دیر تک چھپے نہیں رہے گی۔

نواب ملک نے کہا کہ پرم ویر سنگھ نے سیاسی سازش کے تحت جھوٹے الزامات عائد کرکے انیل دیشمکھ کو پھنسایا ہے اور ریاستی حکومت وانیل دیشمکھ کو بدنام کرنے کے لئے مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس پورے معاملے کی تفتیش کے لئے ریاستی حکومت نے چاندیوال کمیشن کی تشکیل کی تھی جس کے سامنے سچن وازے نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس نے انیل دیشمکھ کو کوئی رقم دی ہے۔ سچن وازے نے انیل دیشمکھ پر پرم ویرسنگھ کی جانب سے عائد الزامات سے بھی انکار کیا ہے۔ جیلیٹن اسکینڈل پراین آئی اے کے پاس اپنا جواب درج کراکر پرم ویرسنگھ فرار ہوگئے تھے۔ لیکن این آئی اے کو یہ بتانا چاہئے کہ اس کی چارج شیٹ میں اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے ابھی تک اپنی چارج شیٹ کیوں داخل نہیں کررہی ہے اور یہ بھی نہیں بتارہی ہے کہ پرم ویر سنگھ کے گھر میں شرما اور وازے کی میٹنگ کیوں ہوئی؟اس کا نام بتایا جاتا ہے، ڈرائیور کا جواب بتایا جاتا ہے، انووا گاڑی کی بات ہوتی ہے لیکن پرم ویر سنگھ پر بات نہیں ہوتی ہے۔ نواب ملک نے کہا کہ دراصل سچائی یہ ہے کہ این آئی اے مرکزی حکومت کے دباؤ میں پرم ویر سنگھ کو بچا رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading