سانگلی: سانگلی-میرج اور کوپواڈ کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے کہا ہے کہ یہ شہر آنجہانی وسنت دادا پاٹل کا شہر ہے جنہوں نے برطانوی راج کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا، اور جو شہر انگریزوں کے سامنے نہیں جھکا وہ آج کمل کے نشان کے سامنے بھی نہیں جھکے گا، یہ بات عوام کو ذہن نشین کرلینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات محض بلدیاتی نہیں بلکہ شہر کی خودداری، جمہوری قدروں اور مستقبل کا سوال ہیں۔
سانگلی میرج کوپواڈ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پس منظر میں جینت پاٹل نے آج وارڈ نمبر 1، 2، 9 اور 10 میں ووٹروں سے براہِ راست گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار اور کانگریس کی مشترکہ محاذ کو عوام کی بھرپور تائید حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پہلے بھی ترقی، شفافیت اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی سیاست کو قبول کیا ہے اور اس بار بھی وہی روایت برقرار رہے گی۔ اپنے خطاب میں جینت پاٹل نے کہا کہ ماضی میں کوپواڈ کے بنیادی مسائل شدید تھے۔ پینے کے پانی کا مناسب انتظام نہیں تھا اور نہ ہی زیرِ زمین گٹر کا نظام بہتر تھا۔ جب اقتدار میں تبدیلی آئی تو ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا۔ کوپواڈ میں چودہ پانی کی ٹنکیاں تعمیر کی گئیں، زیرِ زمین گٹر نظام قائم کیا گیا، مگر گزشتہ آٹھ برسوں میں نہ صرف نئے ترقیاتی کام رُک گئے بلکہ پہلے سے موجود سہولتوں کو بھی درست حالت میں برقرار نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج شہر میں نشہ خوری میں اضافہ ہوا ہے، نئے سال کے آغاز پر ہی دو قتل ہو چکے ہیں اور قانون و نظم کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ جب وہ ضلع کے نگراں وزیر تھے تو اس علاقے کے چیتر بن نالے کی صفائی کے لیے دس کروڑ روپے کا فنڈ منظور کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود نالے کی صفائی تک نہیں کی جا سکی۔ ان کے مطابق بی جے پی کے دور میں ان تینوں وارڈز میں کوئی ٹھوس اور قابلِ ذکر ترقیاتی کام نظر نہیں آتا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ان کے دور میں ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کے نئے دفتر کی عمارت مکمل ہوئی اور امیدوار منگو آبا سرگر کے ذریعے شہر میں پنیہ شلوک اہلیابائی ہولکر کا شاندار مجسمہ نصب کیا گیا۔ جینت پاٹل نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی نے شہر کو آخر دیا ہی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ کہا جائے کہ ریاست اور ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ تقریباً ستر کونسلروں کے نتائج بلا مقابلہ قرار پائے ہیں، جس پر عوام کے ذہن میں فطری طور پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ کہیں امیدواروں پر کسی قسم کا دباؤ، خوف یا لین دین تو نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اور اس کے اتحادی غلط راستوں سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ووٹروں کو ہوشیار اور باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔
جینت پاٹل نے پارٹی بدلنے والوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج وفاداری کے معنی بدل دیے گئے ہیں اور ذاتی مفاد کے لیے نظریات قربان کیے جا رہے ہیں، مگر عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور وقت آنے پر اس کا جواب بھی دیں گے۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ شہر کی تاریخ، خودداری اور جمہوری روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور محاذ کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔
NCP-SP Urdu News 7 Jan. 26.docx