بی ایم سی کے لیے این سی پی کا انتخابی منشور جاری، ممبئی والوں سے حمایت کی اپیل
امیت ساٹم عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، دھاراوی معاملے میں اگر اڈانی کے خلاف جانا پڑا تو ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: نواب ملک
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار) نے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے تناظر میں شہریوں کے لیے اپنا جامع منشور جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی پوری خود اعتمادی کے ساتھ اور اپنی الگ سیاسی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابی میدان میں اتری ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی حدوں اور طاقت کا پورا ادراک ہے، لیکن اس کے باوجود ہم ممبئی شہر میں مضبوطی کے ساتھ اپنی الگر شناخت کے ساتھ انتخابات کا سامنا کر رہے ہیں اور تمام ممبئی والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا ساتھ دیں۔
ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم کے ایم سی اے لاؤنج میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل تٹکرے نے کہا کہ ریاست میں 265 میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے انتخابات کے بعد اب 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ بعض شہروں میں اتحاد کے تحت مقابلہ ہو رہا ہے، مگر ممبئی میں بی جے پی اور شیو سینا ایک ساتھ انتخابی میدان میں ہیں، جبکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی 94 نشستوں پر آزادانہ طور پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ امیدواروں کے انتخاب میں کسی خاص طبقے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق 94 امیدواروں میں مراٹھی، اتر بھارتی، مسلم، عیسائی، تیلگو، تمل اور بوہرہ سماج سے تعلق رکھنے والے امیدوار شامل ہیں، جن میں 50 خواتین، 17 او بی سی اور 12 درج فہرست ذات کے امیدوار بھی شامل ہیں، جو پارٹی کے ہمہ گیر سماجی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
تٹکرے نے کہا کہ ممبئی ملک کی اقتصادی راجدھانی اور عالمی معیار کا شہر ہے، جہاں مختلف زبانوں اور مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی تمام طبقات کو ساتھ لے کر، شہری مسائل کے حل اور مساوی مواقع کی بنیاد پر یہ انتخاب لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر نواب ملک، رکنِ اسمبلی ثنا ملک شیخ اور سابق رکنِ اسمبلی ذیشان صدیقی نے شہر کے مختلف مسائل پر سنجیدہ کام کیا ہے، جبکہ قومی صدر اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار اور قومی کارگزار صدر پرفُل پٹیل کو بھی ممبئی کے مسائل کی گہری سمجھ ہے۔ اس کے علاوہ دو مرتبہ ممبئی کے میئر رہ چکے چھگن بھجبل کو شہر کی سیاست اور انتظامی ڈھانچے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواب ملک نے ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساٹم پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امیت ساٹم عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ پچاس برسوں سے بنگلہ دیشی دراندازی کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، مگر زمینی حقائق کے بجائے صرف خوف پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر واقعی بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے حالات خراب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو پھر سب سے پہلے شیخ حسینہ کو بھارت سے باہر نکالنے کی بات کرنی چاہیے، جن کی وجہ سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو تکالیف و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کے حوالے سے نواب ملک نے کہا کہ اس منصوبے کا تصور انہوں نے 2002 میں پیش کیا تھا اور اس وقت بھی پارٹی کا واضح موقف یہی تھا کہ ہر خاندان کو عزت کے ساتھ گھر ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دھاراوی کی ترقی ہماری ترجیح پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے، لیکن اگر اس منصوبے میں عوامی مفاد کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا، یا اڈانی گروپ کی جانب سے ناانصافی کی گئی، تو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اس کی سخت مخالفت کرے گی اور عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
سیاسی تلخیوں پر بات کرتے ہوئے نواب ملک نے کہا کہ کلیان ڈومبیولی میں شیو سینا اور بی جے پی نے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کیے، مگر بعد میں وہی اقتدار میں ایک ساتھ نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری سیاسی کڑواہٹ نہ بڑھے، اس مقصد کے لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سمیت بی جے پی کے دیگر سینئر قائدین سے بات چیت کی ہے اور اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ آئندہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے جاری کردہ منشور میں’اپنی ممبئی، سب کی ممبئی‘ کے نظریے کے تحت غریب، متوسط اور خوشحال طبقے سب کو مساوی مواقع فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس میں پرانی چالوں اور جھونپڑپٹیوں میں مفت پانی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معذور افراد کے لیے ممبئی میٹرو میں مکمل رعایت، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، خواتین کی سلامتی اور شفاف بلدیاتی انتظام جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ منشور محض وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ممبئی کو سماجی ہم آہنگی، مساوات اور پائیدار ترقی کی راہ پر لے جانے کا عملی خاکہ ہے۔