بیلٹ پیپر پر انتخابات کرائیں، ای وی ایم بند کریں – سپریا سولے

نئی دہلی: این سی پی- ایس پی کی کارگزار صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولے نے انتخابی عمل میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات بیلٹ پیپر پر کرائے جائیں اور ای وی ایم کا استعمال بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ، انتخابی نشان اور پارٹی کی تقسیم جیسے معاملات جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سپریا سولے نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مہاراشٹر میں ووٹرز کی تعداد میں اچانک اضافہ کیسے ہوا؟ ہم ووٹر لسٹ مانگ رہے ہیں، وہ دی جانی چاہیے۔ اس موقع پر لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے رکنِ پارلیمان سنجے راوت اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ مڈھا لوک سبھا حلقے سے راشٹروادی کانگریس کے رکنِ پارلیمان دھیرشیل موہتے پاٹل بھی اس معاملے پر فکرمند ہیں۔ اسی حلقے کے مالشیرس اسمبلی حلقے سے پارٹی کے ایم ایل اے اُتم جانکر نے کہا کہ وہ جیت تو گئے، لیکن انتخابات جس طرح ہونے چاہیے تھے، ویسے نہیں ہوئے۔ اس لیے وہ بھی بیلٹ پیپر پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سپریا سولے نے مزید کہا کہ دھیرشیل موہتے پاٹل اور سولاپور سے ایم ایل اے بننے والے اُتم جانکر جیسے کئی رہنما بیلٹ پیپر کے حق میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ راج ٹھاکرے کے ایک امیدوار کو بھی ان کا خود کا ووٹ نہیں ملا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ای وی ایم پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پارٹی نشان ‘توتاری’ دیا گیا، اور اسی نام سے مشابہ ایک اور انتخابی نشان ‘توتاری بجانے والا شخص’ بھی رکھا گیا، جس کی وجہ سے ووٹرز میں الجھن پیدا ہوئی اور اس کا نقصان ہمیں ہوا۔ یہاں تک کہ حکومت کے ایک وزیر نے بھی تسلیم کیا کہ اسی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابات شفاف طریقے سے کرائے جائیں، تاکہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔

سپریا سولے نے کہا کہ ہمیں ووٹر لسٹ فراہم کی جائے، کیونکہ ہمیں شبہ ہے کہ آخری دنوں میں ووٹروں کے نام غیرقانونی طور پر بڑھائے گئے۔ ‘لادکی بہن’ یوجنا میں بھی جعلی آدھار کارڈز کا معاملہ سامنے آیا ہے، جو انتخابی عمل میں دھاندلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں شکست جیت کا فیصلہ عوام کرتی ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن انتخابی کمیشن کو اپنا کام شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے انجام دینا چاہیے۔ ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں اور اس کے لیے بیلٹ پیپر کی واپسی ضروری ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading