NCP-SP Urdu News 6 August 25

بی جے پی کی سابق ترجمان آرتی ساٹھے کی جج کے طور پر تقرری کا کالجیم واپس لے: روہت پوار

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے جنرل سیکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار نے آج ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی عدلیہ کے غیرجانبدارانہ کردار پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے سرگرم ترجمان کو ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنا جمہوریت پر سب سے بڑا حملہ ہے اور اس سے عدالتی غیرجانبداری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بی جے پی کی سابقہ ترجمان آرتی ساٹھے کو ممبئی ہائی کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی گئی ہے، وہ عدلیہ کو سیاسی میدان میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے کالجیم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سفارش کو فوری طور پر واپس لے۔

روہت پوار نے کہا کہ آرتی ساٹھے بی جے پی کی آفیشل ترجمان رہ چکی ہیں اور وہ کئی بار ٹی وی چینلوں پر بی جے پی کا موقف انتہائی جارحانہ انداز میں پیش کرتی دیکھی گئی ہیں۔ اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے 2024 میں پارٹی سے استعفیٰ دیا، لیکن عدلیہ میں تقرری کا عمل کم از کم دو سال قبل شروع ہوتا ہے اور کالجیم اسی بنیاد پر انٹرویو اور جانچ کرتا ہے۔ اگر آرتی ساٹھے کی تقرری 2025 میں ہورہی ہے تو یہ عمل 2023 میں ہی شروع ہوا ہوگا۔ اس پس منظر میں ان کی غیرجانبداری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

روہت پوار نے کہا کہ ہم حکومت کے خلاف بولتے ہیں، ہمارے کارکن بولتے ہیں۔ اگر ہماری کوئی عرضی اسی جج کے سامنے پیش ہو، جو کبھی حکومتی ترجمان رہا ہو تو کیا ہمیں انصاف ملے گا؟ اگر معاملہ کسانوں کی خودکشی سے متعلق ہو یا کسی قبائلی مسئلے سے متعلق ہو، تو کیا ایسے سابق سیاسی چہرے سے غیرجانبدار فیصلہ متوقع ہے؟ یہ سارے خدشات عوام کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور عدلیہ پر اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب وکلاء کو جج کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کن سیاسی جماعتوں کے مقدمات لڑ چکے ہیں، اور اگر انہوں نے کسی مخصوص جماعت کی نمائندگی کی ہو تو ان کی امیدواری کو رد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن آرتی ساٹھے کی تقرری ان اصولوں سے انحراف ہے۔ انہوں نے پونے کے وکیل سروڈے کا بھی ذکر کیا جو اس انٹرویو عمل کا حصہ تھے اور بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں کہ کالجیم نے کس بنیاد پر ساٹھے کا انتخاب کیا۔ انہوں نے حکومت اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ آرتی ساٹھے کا نام عدالتی فہرست سے نکال دیا جائے۔

پریس کانفرنس کے دوران روہت پوار نے تھانے کے رہائشی منصوبے ’شانتی دوت‘ کے گھپلے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈیولپر شری کانت شیتولے نے غریب عوام سے تین سال میں مکان دینے کا وعدہ کر کے کروڑوں روپے اکٹھے کیے لیکن چودہ سال گزرنے کے بعد بھی فلیٹ فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے زمین کو بینک کے پاس رہن رکھ کر 398 کروڑ روپے قرض حاصل کیا اور ساتھ ہی 150 کروڑ روپے عام لوگوں سے ایڈوانس بُکنگ کے طور پر لیے، جس سے کل مالی بے ضابطگی 468 کروڑ روپے کی بنتی ہے۔ روہت پوار نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جب خود وزیر داخلہ فڈنویس نے پولیس کمشنر کو کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے تو اب تک تھانے پولیس نے ڈیولپر کے خلاف کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ اگر پولیس اپوزیشن کی بات نہ سنے تو بات سمجھ آتی ہے، لیکن وزیر داخلہ کے حکم کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی معاملات کی روک تھام کے لیے "ریرا" قانون بنایا گیا تھا، لیکن اگر پھر بھی عام آدمی کو دھوکہ دیا جا رہا ہے تو وہ کہاں انصاف مانگے؟

NCP-SP Urdu News 6 August 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading