MPCC Urdu News 6 August 25

لوڈھا اور اڈانی کی ممبئی کی عمارتوں میں ہی بنائیں ’آدرش کبوتر خانہ‘: ہرش وردھن سپکال

کبوتر خانہ تنازع کے پیچھے بی جے پی حکومت کی سازش، عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش

ریاست میں بلدیاتی حلقہ بندی کے عمل میں سیاسی مداخلت نہ ہو ورنہ عدالتی چارہ جوئی کی جائے گی

ممبئی: ممبئی کے دادر واقع کبوتر خانہ کو لے کر پیدا ہونے والے تنازع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی ’کرونا‘ (رحمدلی) دکھانا چاہتی ہے تو ریاستی وزیر منگل پربھات لوڈھا اور صنعتکار اڈانی اپنی ہی زمینوں پر ایک مثالی کبوتر خانہ قائم کریں، کیونکہ لوڈھا کے پاس ممبئی میں بڑی تعداد میں زمینیں اور بلند عمارتیں ہیں اور حکومت نے اڈانی گروپ کو ممبئی کی 33 فیصد زمین پہلے ہی سونپ دی ہے۔

کبوتر خانوں کے حوالے سے جاری عدالتی کارروائی اور جین سماج کی جانب سے ان کے تحفظ کی مانگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کبوتروں کے سبب پھیپھڑوں کی مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس کے پیش نظر عدالت نے انہیں ہٹانے کے احکامات دیے۔ شہریوں کی صحت کو اولیت دینا ضروری ہے، لیکن بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت بلاوجہ ایسے تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔ سپکال نے الزام لگایا کہ حکومت کی حکمت عملی یہ ہو چکی ہے کہ بیماری سے زیادہ خوفناک علاج تجویز کیا جائے۔ ریاست میں کسان پریشان ہیں، نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا، مہنگائی عروج پر ہے اور قانون و نظم کی صورت حال ابتر ہے۔ ان سب اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت غیرضروری اور جذباتی نوعیت کے تنازعات کو ابھار رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کانگریس صدر نے کہا کہ دادر کے کبوتر خانہ تنازع میں مبینہ طور پر باہر سے لوگ شامل تھے، اس طرح کے دعوے سراسر فرضی اور گمراہ کن ہیں۔ سپکال نے کہا کہ ریاست میں جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، حکومت فوراً یہ کہہ کر جان چھڑاتی ہے کہ اس میں ’باہر کے عناصر‘ ملوث ہیں۔ یہ ایک گھسا پٹا اور بزدلانہ بہانہ ہے، جس سے حکومت اپنی ناکامی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تقرری کو لے کر پیدا ہونے والی کشمکش کو ’سرکاری گینگ وار‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی عہدے پر، ایک ہی دن میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اشونی جوشی کو BEST انتظامیہ کی اضافی ذمہ داری دی، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسی عہدے کے لیے آشیِش شرما کو مقرر کیا۔ سپکال نے سوال اٹھایا کہ جب ایک ہی حکومت کے دو اعلیٰ عہدیدار ایک ہی دن الگ الگ تقرریاں کر رہے ہوں تو عوام یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ یہ حکومت ہے یا مافیا گروہوں کی باہمی جنگ؟

دریں اثنا مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مقامی بلدیاتی انتخابات سے قبل ریاستی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی، ضلع پریشد اور پنچایت سمیتیوں کی حلقہ بندی کے دوران کسی بھی قسم کے سیاسی مداخلت سے بچنا لازم ہے۔ انہوں نے دیہی علاقوں میں گروپ اور وارڈ کی حد بندی اور شہری علاقوں میں حلقہ بندی کے عمل کو صاف و شفاف بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ عمل سیاسی دباؤ میں انجام دیا گیا تو کانگریس قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہو گی اور اس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ اپنے مکتوب میں سپکال نے گرام و نگر وکاس محکموں کے چیف سکریٹریوں کو یاد دلایا ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر متعین رہنما اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ جمہوری نظام میں عوام کا اعتماد قائم رہے۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر شفافیت کو نظر انداز کیا گیا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔

MPCC Urdu News 6 August 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading