والیمیک کراڈ کی خود سپردگی ایک فکسنگ ہے: جیتندر اوہاڈ

ممبئی: والیمیک کراڈ نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا لیکن ’آقا‘ ابھی بھی آزاد ہے۔ مہاراشٹر کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی کسی وزیر پر الزامات عائد ہوئے تو اس نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ لیکن والیمیک کراڈ معاملے میں صریح الزامات کے باوجود وزیر داخلہ اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ یہ باتیں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے رکن اسمبلی جیتندر اوہاڈ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی ہیں۔

جیتندر اوہاڈ نے کہا کہ پچھلے چند دنوں سے یہ بات واضح تھی کہ والیمیک کراڈ خود سپردگی کرے گا، جس کی پیش گوئی میں نے پہلے ہی کر دی تھی۔ میں نے پہلے ہی ٹویٹ کیا تھا کہ یہ سب معاملہ سیٹ کرنے کے لیے اتنا وقت لیا گیا ہے۔ 19 دن بعد والیمیک کراڈ سامنے آیا، لیکن وہ صرف ہفتہ وصولی کے بارے میں بات کر رہا ہے، قتل کے بارے میں خاموش ہے۔

اس معاملے میں ملوث افسران نے اسے مدد فراہم کی۔ پورے بیڑ کو معلوم تھا کہ وہ آج خود سپردگی کرنے والا ہے۔ اس نے نہ صرف خود سپردگی کی بلکہ اس کے ساتھ ایک بڑا گروپ بھی تھا، گویا کوئی فوج کی معیت میں آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ کتنا سنگین ہے۔

اوہاڈ نے مزید کہا کہ والیمیک کراڈ نے خود سپردگی کرتے وقت پولیس کو چیلنج کیا کہ پولیس میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، میں خود تمہارے پاس آرہا ہوں۔ اگر یہی ہوتا رہا تو ریاست کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ مجرموں کے دل میں پولیس کا خوف ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ خوف ختم ہوگیا تو بھلا وہ کس سے ڈریں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ والیمیک کراڈ پر 302 کا مقدمہ درج نہیں ہوگا کیونکہ ’اس کا آقا کیبن میں بیٹھا ہے۔‘ ان کے دعوے کے مطابق یہ سب کچھ طاقت کے غرور کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے اس کے ثبوت کے طور پر کچھ چیٹ بھی شیئر کی تھیں۔ اوہاڈ نے عوام سے اپیل کی کہ جب تک والیمیک کراڈ پر 302 کا مقدمہ درج نہ ہو، عوام کو خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔

جیتندر اوہاڈ نے مزید کہا کہ سنتوش دیشمکھ بی جے پی کے تھے، ہمارے پارٹی کے نہیں، لیکن انسانیت کی خاطر ہم لڑ رہے ہیں۔ سنتوش دیشمکھ کے خاندان کو سرکاری وکیل دیتے وقت انہیں اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ میری وزیر اعلیٰ فڑنویس سے گزارش ہے کہ پچھلے دو تین سالوں میں ہونے والے قتل کی تفتیش کریں اور متاثرہ خاندانوں کو بھی شامل کریں تاکہ معلوم ہو کہ کس نے کس کی زمین ہتھیائی اور کس نے کس کا قتل کیا۔

اوہاڈ نے مزید ایک سنگین واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک قتل بہت بھیانک ہے، جس کے بارے میں میرے پاس معلومات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک لڑکی کو فون پر حکم دیا گیا کہ یا تو وہ خود کو گولی مار لے یا وہاں پر موجود ایک شخص کو گولی مارنے کے لیے کہے۔ تاہم جیتندر اوہاڈ نے اس واقعے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading