والیمیک کراڈ کی گرفتاری نہ ہونا بی جے پی حکومت کی ناکامی اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے: اتل لونڈھے

  • فڑنویس حکومت ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام، وزیر اعلیٰ استعفیٰ دیں
  • بیڑ کی منظم جرائم کی تحقیقات موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائے

ممبئی: مہاراشٹر میں بیڑ کے سنتوش دیشمکھ قتل کیس کے اہم ملزم والیمیک کراڈ کی گرفتاری میں ناکامی نے پولیس فورس کی کارکردگی اور بی جے پی حکومت کے رویے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 20 دن کی طویل تلاش کے باوجود پولیس اور سی آئی ڈی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہیں، یہاں تک کہ ملزم نے خود ہی سرینڈر کر دیا۔ اس واقعے نے مہاراشٹر کے پولیس نظام کی کمزوری اور سیاسی مداخلت کے اثرات کو واضح کر دیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان اتل لونڈھے نے اس معاملے پر بی جے پی حکومت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے پولیس کی ناکامی کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر پولیس محکمہ آج بھی مضبوط ہے، لیکن سیاسی دباؤ کے باعث اس کا حوصلہ پست ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا خود سرینڈر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پولیس پر حکومت کی غیر ضروری مداخلت ان کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔

اتل لونڈھے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ناگپور میں ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے 7 قتل کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اپنی ناکامی تسلیم کر کے فوری طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ خود حکمران جماعت کے ایم ایل ایز بھی حکومت کی پالیسیوں پر علانیہ تنقیدیں کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے بیڑ کے حالات کو ’گینگز آف واسع پور‘ سے تشبیہ دی ہے، جو کہ حکومت کے لیے باعثِ شرم ہے۔

اتل لونڈھے نے مطالبہ کیا ہے کہ بیڑ کے قتل کیس کی تحقیقات موجودہ جج کی نگرانی میں کرائی جائے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی آشیر واد سے پروان چڑھنے والے جرائم کو جڑ سے ختم کرنا ضروری ہے اور ان کے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیڑ کے واقعات نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ حکومت کی ناکامی نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کر رہی ہے۔ یہ حالات حکومت کے لیے ایک وارننگ ہیں کہ وہ اپنی حکمرانی کے انداز میں فوری تبدیلی لائے اور ریاست میں بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading