ممبئی: ریاست میں خواتین اور لڑکیوں پر ہونے والے مظالم کو کم کرنے کے لیے آندھرا پردیش کی طرز پر ’شکتی‘ قانون لانے کی کوشش میں نے بطور وزیر داخلہ کی تھی۔ اس قانون میں مجرم کو سزائے موت دینے کی شق شامل کی گئی تھی۔ مہاراشٹر اسمبلی اور کونسل نے اس قانون کو منظوری دے کر حتمی منظوری کے لیے چار سال قبل مرکز کو بھیجا تھا، لیکن آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مجرم کو سزائے موت دینے والا ’شکتی‘ قانون مہاراشٹر میں کب نافذ ہوگا؟ یہ سوال این سی پی شرد چندر پوار کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے ایک پریس کانفرنس میں کیا ہے۔
انل دیشمکھ نے کہا کہ پونے میں ایک خاتون کے ساتھ بس میں زیادتی کے واقعے کے بعد ریاست میں خواتین اور لڑکیوں کی سلامتی کا مسئلہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ ہر ایسے واقعے کے بعد عوام مجرم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن مہاراشٹر کے موجودہ قوانین میں سزائے موت کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ جب میں وزیر داخلہ تھا، تو آندھرا پردیش میں نافذ سخت قانون کا مطالعہ کرنے کے لیے میں نے سینئر آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کے ساتھ آندھرا پردیش کا دورہ کیا تھا، تاکہ مہاراشٹر میں بھی ایسا ہی قانون نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’شکتی‘ قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے 21 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں اسمبلی اور کونسل کے تمام جماعتوں کے ارکان کے ساتھ سینئر آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ممبئی، اورنگ آباد اور ناگپور میں مختلف اجلاس منعقد کیے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے تبادلہ خیال کیا، تاکہ قانون میں مؤثر دفعات شامل کی جا سکیں۔ اس تفصیلی غور و خوض کے بعد قانون کا مسودہ تیار کرکے اسمبلی اور کونسل سے منظور کرایا گیا، لیکن گزشتہ چار برس سے یہ قانون مرکزی حکومت کے پاس منظوری کے انتظار میں پڑا ہوا ہے۔
انل دیشمکھ نے کہا کہ اقتدار کی کرسی کے لیے دن رات محنت کرنے والی مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ ’لاڈکی بہین‘ اور ’لاڈکی بیٹی‘ پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے اس قانون کو جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ پونے کے سوارگیٹ کیس کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ریاست میں 1500 سے زائد جنسی زیادتی کے واقعات درج ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ کے پاس ہی وزارت داخلہ کا قلمدان بھی ہے، لیکن ان کے پاس پہلے ہی متعدد محکمے ہیں، جس کے باعث وہ کسی ایک محکمے پر توجہ نہیں دے سکتے۔ اس لیے مہاراشٹر کو ایک الگ وزیر داخلہ کی ضرورت ہے، تاکہ خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔