ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے قومی صدر شرد پوار نے سابق وزیرِاعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک و قوم سے متعلق ان کی خدمات کو یاد کیا ہے۔ ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے سابق وزیرِاعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک عظیم ماہرِ معیشت، دوراندیش اصلاح پسند اور عالمی سطح کے مدبر و رہنما تھے۔ وہ شرافت، تحمل، رواداری اور ہمدردی کی علامت تھے۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ باعثِ تحریک رہیں گے۔
شرد پوار نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک مختلف طریقوں سے ملک کی خدمت کرنے میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تعاون دیا۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے جو بےچینی محسوس ہورہی ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ منموہن سنگھ کی شخصیت بنیادی طور پر سیاستدان کی نہیں تھی، وہ ایک بہترین ماہرِ معاشیات، مفکر اور ہمیشہ ملک کے مستقبل کی بہتری کے بارے میں سوچنے والے رہنما تھے۔
شرد پوار نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ اپنے تعارف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میرا اور ان کا تعارف ممبئی میں ہوا تھا، جب میں مہاراشٹر کا وزیرِاعلیٰ تھا اور وہ ممبئی میں ریزرو بینک کے گورنر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس لیے کسی نہ کسی وجہ سے ہمارا رابطہ ہوتا رہتا تھا اور ان کے بارے میں ایک کشش میرے دل میں پیدا ہوئی۔ بعد میں چندرشیکھر سنگھ کے وزیراعظم بننے کے دوران، جب وہ اقتصادی مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے، ہماری ملاقات ہوئی۔ پھر نرسمہا راؤ کی کابینہ میں انہیں وزارتِ خزانہ کی ذمہ داری سونپی گئی اور اس وقت میں وزیرِ دفاع تھا۔
شرد پوار نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کی جو ایک یا دو کمیٹیاں تشکیل دی جاتی تھیں، ان میں ہم دونوں شریک ہوتے تھے۔ اس طرح ہمیں ان کے مختلف موضوعات پر بےباک خیالات سننے کا موقع ملتا تھا۔ وہ کم گو تھے لیکن اپنی رائے پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے۔ ملک کے وزیراعظم کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد، ان دس سالوں میں انہوں نے ملک کی معیشت کو ایک نئی سمت دی۔ اقتصادی بحران کے دور میں انہوں نے ملک کو سنبھالا اور وزیر اعظم بننے کے بعد انہوں نے کئی اہم فیصلے کرتے ہوئے ملک کو بڑے اقتصادی بحران سے باہر نکالا۔ ان کے دس سالہ دور میں نو یا دس اہم فیصلے انہوں نے کیے، جنہوں نے پورے ملک کو ایک الگ سمت دی۔