دنیا نے یہ تسلیم کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک مضبوط وزیر اعظم تھے

آخری رسومات کے لیے راج گھاٹ پر جگہ نہ دینا بی جے پی کی گندی سیاست کا مظاہرہ

سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ریاستی کانگریس کے دفتر میں خراج عقیدت

ممبئی: ’وزیراعظم کے طور پر میں کمزور تھا یا مضبوط، یہ تاریخ طے کرے گی‘۔ یہ الفاظ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے تھے۔ آج جب دنیا بھر میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، تو ان کی عظمت کا ہر کوئی قائل نظر آ رہا ہے۔ غربت سے نکل کر اپنی ذہانت کے بل بوتے پر وزیراعظم بننے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملک کو اقتصادی سمت اور مالیاتی نظم و ضبط فراہم کیا، جو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ان جیسی عظیم شخصیت کا نہ رہنا قوم کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف کانگریس پارٹی بلکہ پورے ملک کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم آنجہانی ڈاکٹر منموہن سنگھ سے متعلق یہ دلی جذبات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ظاہر کیے ہیں۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور ملک کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو پردیش کانگریس کے صدر دفتر تلک بھون میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور کارگزار صدر نسیم خان، اقلیتی شعبے کے صدر وجاہت مرزا، سابق ایم ایل اے سُبھاش چوہان، جنرل سیکریٹری راجیش شرما، مناف حکیم، ریاستی کانگریس کے ترجمان بھرت سنگھ، نظام الدین راعین سمیت دیگر عہدیداروں اور کارکنوں نے پھولوں کے ہار پیش کر کے عقیدت کا اظہار کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہمیشہ آخری فرد تک ترقی کے فوائد پہنچانے کے بارے میں سوچا۔ اپنے 10 سالہ دور میں انہوں نے ملک کو منریگا، تعلیم کا حق، غذائی تحفظ قانون اور معلومات کے حق جیسے اہم قوانین دیے، جنہوں نے عام آدمی کے مفادات کو محفوظ بنایا۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باوجود انہوں نے اس کا بوجھ عام عوام پر پڑنے سے روکنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ پر مسلسل تنقید کی گئی، لیکن ان تنقیدوں کی پروا کیے بغیر انہوں نے ملک کی ترقی کو اپنا مقصد بنایا۔

نانا پٹولے نے مزید کہا کہ ڈاکٹر سنگھ کے پاس غرور نہیں تھا۔ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی وہ ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی شخصیت اس بات کی مثال ہے کہ عام لوگوں میں رہتے ہوئے عظیم بننا کیسے ممکن ہے۔ وہ ملک کے ہر فرد کو انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے رہنما تھے۔ محترمہ سونیا گاندھی نے انہیں وزیراعظم کے عہدے پر فائز کر کے یہ دکھایا کہ قوم کے مفاد میں کس قسم کی قیادت کو موقع دینا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی عظیم شخصیت کو دنیا نے دیکھا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان ان کی عزت کرتے تھے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ لیکن افسوس ایسی عظیم شخصیت کے آخری رسومات کے لیے راج گھاٹ پر جگہ فراہم نہ کر کے موجودہ حکومت نے تعصب کا مظاہرہ کیا۔ جنہوں نے کبھی کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی، ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا بی جے پی کی گندی سیاست کی علامت ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading