کشمیر میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملہ انتہائی افسوسناک، جتنی مذمت کی جائے کم ہے: سپریا سُولے
پونے: جموں و کشمیر کے پہلگام میں منگل کے روز سیاحوں پر ہونے والا دہشت گردانہ حملہ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ ناکافی ہے۔ یہ واقعہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی قومی کارگزار صدر اور معزز رکن پارلیمنٹ، سپریا سولے نے پونے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سپریا سولے نے کہا کہ دہلی میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘کے موضوع پر جاری اجلاس کے دوران پہلگام کے اس واقعے کی اطلاع ملی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اطلاع ملی کہ پونے کے کچھ سیاح بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ مزید یہ معلوم ہوا کہ اس حملے میں پونے کے دو شہری گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے رابطہ کر کے تفصیلات حاصل کیں اور مرکز سے فوری توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی سنگین ہے اور جب تک مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے باضابطہ معلومات سامنے نہیں آتیں، تب تک تمام افراد کو ذمہ داری اور صبر و تحمل سے بات کرنی چاہیے۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ کشمیر سے واپس آنے والے سیاحوں کو زیادہ کرایے ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جس کے باعث ریلوے اور شہری ہوابازی کی وزارتوں کو اس مسئلے کا فوری حل نکالنا چاہیے۔ اس وقت کئی بھارتی شہری مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں، اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا سب سے اہم فریضہ ہے۔ یہ وقت منافع کمانے کا نہیں بلکہ ہر بھارتی شہری کو محفوظ طریقے سے اس کے گھر پہنچانے کی اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ حساسیت کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی کہ جب تک مکمل معلومات نہ آ جائیں، صبر، تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
سپریا سولے نے کہا کہ پندرہ دن قبل وزارتِ داخلہ کو ممکنہ دہشت گرد حملے کے متعلق اطلاع ملی تھی، ایسی خبریں گردش میں ہیں۔ اس لیے وزارتِ داخلہ کو اس حملے کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو اس واقعے کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد فوری طور پر کل جماعتی اجلاس بلانا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو صورت حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔