اگر تعلیم یافتہ خاندانوں میں بھی ظلم جاری ہے تو مہاراشٹر کس سمت جا رہا ہے؟
پونے میں جہیز کے لیے دلخراش موت، سپریا سُولے کا سخت ردعمل
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ) کی قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سُولے نے پونے ضلع کے مولا تعلقہ میں ایک 24 سالہ خاتون کی مبینہ جہیز کے لیے موت کے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو مہاراشٹر کی ترقی پسند شناخت پر دھبہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے عدالتی تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سُولے نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت تکلیف دہ اور حیران کن ہے۔ جس خاندان میں یہ سانحہ پیش آیا، وہ پونے اور مولا کا تعلیم یافتہ اور معزز خاندان سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسے گھروں میں بھی بہوؤں پر ظلم ہو رہا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جا رہا ہے؟ انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاتون کے خاندان نے کانگریس پارٹی کے ساتھ کئی دہائیوں تک کام کیا ہے۔ چند روز قبل اسی خاندان کے گھر ایک تقریب تھی، لیکن میں نے اس میں شرکت نہیں کی کیونکہ ان کے خلاف گھریلو تشدد کی شکایات درج تھیں۔ میری غیر حاضری ایک پیغام تھی کہ میں ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ متاثرہ لڑکی کی دونوں بھابھیاں بھی گھریلو تشدد کے مقدمات درج کروا چکی ہیں۔ پولیس سے حاصل شدہ ابتدائی معلومات کے مطابق واقعے کی نوعیت واضح نہیں ہے۔ کچھ افراد اسے خودکشی جبکہ دیگر اسے قتل قرار دے رہے ہیں۔ سُولے نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔ 24 سال کی لڑکی کی موت پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ میں اس معاملے میں مکمل انصاف دلانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔
ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے سُولے نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی فرد یا پارٹی کی نہیں بلکہ پورے ملک کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فوج سے متعلق حساس معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور تمام پارٹیوں کو قومی مفاد کو اولیت دینی چاہیے۔
اسی پریس کانفرنس میں سپریا سُولے نے ’جل جیون مشن‘ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ رپورٹوں کے مطابق اس مشن کے تحت کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے یا تخمینہ جات جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے ریاستی بی جے پی صدر سی آر پاٹل اور وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر شفاف تحقیقات کی مانگ کا اعلان بھی کیا۔