MPCC Urdu News 21 May 25

’آپریشن سندور‘ کی جرأت مندانہ کارروائی پر فوج کو سلام

لیکن جنگ بندی پر سوالوں کا جواب مرکز کیوں نہیں دیتا؟: ہرش وردھن سپکال

فڑنویس کی آمر حکومت میں کسان بحران کا شکار، قرض معافی دی جائے ورنہ جدوجہد مزید شدید ہوگی

کانگریس کی جانب سے امراؤتی میں عظیم الشان ٹریکٹر مارچ اور ترنگا ریلی کا انعقاد

آپریشن سندور کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ریاست بھر میں کانگریس کی ترنگا ریلی

امراوتی/ممبئی، 21 مئی 2025

ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اپنی جانیں قربان کیں اور سرحدوں کی حفاظت کی خاطر بھارتی فوج کے جوانوں نے اپنا خون بہایا۔ ’آپریشن سندور‘ کی دلیرانہ کارروائی نے پورے ملک کو فوج کے فخر سے سرشار کر دیا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے سوال اٹھایا ہے کہ اچانک جنگ بندی کا اعلان کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ آخر کون ہیں؟ اور اس پورے واقعے پر جو سنجیدہ سوالات کھڑے ہو رہے ہیں، ان کا جواب مرکزی حکومت کیوں نہیں دے رہی؟

یہ بات سپکال نے اُس وقت کہی جب ان کی قیادت میں امراؤتی میں کانگریس کی جانب سے ایک شاندار ٹریکٹر مارچ اور ترنگا ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری کنال چودھری، سابق وزیر یشومتی ٹھاکر، رکنِ پارلیمنٹ بلونت وانکھڑے، سابق رکن اسمبلی وریندر جگتاپ، امراؤتی ضلع کانگریس صدر ببلو دیشمکھ، شہر صدر ببلو شیکھاوت سمیت ہزاروں کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ آج قوم ایک عجیب دوہری کیفیت سے گزر رہی ہے، ایک آنکھ میں خوشی کے آنسو ہیں تو دوسری میں غم کی نمی۔ سرحد پر ہمارے جوانوں نے بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے، جس پر پورے ملک کو ناز ہے، لیکن دوسری طرف ریاست کا کسان انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور حکومت مکمل طور پر بےحس بنی ہوئی ہے۔ وزیر زراعت کسانوں کو ’بھکاری‘ کہہ کر ان کی توہین کرتے ہیں۔ مرکز کی کسان مخالف پالیسیوں کی وجہ سے تور کی قیمت 12 ہزار روپے سے گھٹ کر 6 ہزار پر آ گئی ہے۔ جب کسان مارکیٹ میں اپنی پیداوار لانے ہی والا تھا، تب بی جے پی حکومت نے تور کی درآمد کر کے قیمتیں گرا دیں۔ سویابین کی قیمت بھی 4 ہزار روپے سے زیادہ نہیں جا رہی۔ فصلوں کو مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ قرض نہ ملنے پر کسانوں کو ساہوکاروں کے در پر جانا پڑتا ہے۔ ان تمام حالات کے لیے فڑنویس کی آمر حکومت ذمہ دار ہے۔

سپکال نے مزید کہا کہ آج کی ٹریکٹر ریلی کا مقصد حکومت کی آنکھیں کھولنا ہے، جو اندھی اور بہری بنی ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے کسانوں کو قرض معافی نہ دی اور فصلوں کی مناسب قیمت یقینی نہ بنائی تو یہ تحریک مزید شدت اختیار کرے گی اور اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ریلی کے دوران آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری اور ریاست کے شریک انچارج کنال چودھری اور سابق وزیر یشومتی ٹھاکر نے بھی مرکز اور ریاست میں بی جے پی حکومتوں پر سخت تنقید کی۔ ریلی کے شرکاء نے ’مکمل قرض معافی ہو کر رہے گی‘، ’جے جوان، جے کسان‘ جیسے نعرے لگائے۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج ریاست کے تمام اضلاع اور تعلقہ جات میں ’ترنگا یاترا‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ’آپریشن سندور‘ میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ’ذرا یاد کرو قربانی‘ کے جذبے پر مبنی اس ترنگا یاترا میں کانگریس کے قائدین، عہدیداران، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading