NCP-SP Urdu news 21 August 2024

شکتی ایکٹ: تین سال بعد بھی منظوری کی منتظر، خواتین کی حفاظت پر سوالات: انیل دیشمکھ

ممبئی: این سی پی- ایس پی کے سینئر لیڈر و سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے ریاستی حکومت سے ’شکتی ایکٹ‘ سے متعلق سوال کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے ظالموں کو پھانسی دینے والا ’شکتی ایکٹ‘ کب نافذ ہوگا۔ انل دیشمکھ نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں آندھرا پردیش کی طرز پر مہاراشٹر میں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے شکتی ایکٹ لانے کی کوشش کی تھی۔ اس قانون کا مقصد ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو براہ راست موت کی سزا دینا تھا۔ وہ یہاں پارٹی کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

انل دیشمکھ نے کہا کہ اس قانون کو مہاراشٹر کی قانون ساز کونسل اور اسمبلی نے منظور کر لیا تھا اور اسے حتمی منظوری کے لیے مرکزی حکومت کو بھیج دیا گیا تھا، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود اس قانون کو ابھی تک مرکزی حکومت سے منظوری نہیں مل سکی ہے۔ این سی پی- ایس پی کے سینئر لیڈر انل دیشمکھ نے حال میں ہوئے بدلاپور میں دو معصوم بچیوں کی عصمت دری کے واقعے کے بعد اس مسئلے کو دوبارہ اٹھایا ہے۔ انل دیشمکھ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد عوام کی جانب سے مجرموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ موجودہ قانون میں سزائے موت کا کوئی التزام نہیں ہے۔

دیشمکھ نے بتایا کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے سینئر آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسران کے ساتھ آندھرا پردیش کا دورہ کیا تاکہ وہاں کے قوانین کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں شکتی ایکٹ کی بنانے کی کوششیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے 21 اراکین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں سینئر افسران اور تمام پارٹیوں کے ایم ایل ایز شامل تھے۔ کمیٹی نے ممبئی، اورنگ آباد اور ناگپور میں میٹنگیں کیں اور خواتین کے حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مشاورت کی۔

انیل دیشمکھ نے مزید کہا کہ کمیٹی کی تجاویز کی بنیاد پر قانون کا مسودہ تیار کیا گیا اور اسے قانون ساز کونسل اور اسمبلی نے منظور کر لیا۔ حالانکہ مرکزی حکومت نے اس قانون کو تین سال سے منظوری نہیں دی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مرکزی حکومت کے ساتھ فالو اپ کرے تاکہ اس قانون کو جلد از جلد نافذ کیا جا سکے۔

بدلاپور واقعے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انیل دیشمکھ نے بتایا کہ اس معاملے میں تاخیر کے باعث بدلاپور کے سینئر پولیس انسپکٹر سمیت دو پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی جانچ کا مطالبہ کیا کہ کس نے سینئر پولیس انسپکٹر پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس سنگین معاملے میں کارروائی میں تاخیر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں دباؤ ڈالنے والے عناصر کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ تین سال گزرنے کے باوجود خواتین کی حفاظت کے لیے بنایا گیا یہ قانون کب نافذ ہوگا اور کب خواتین کو اس کے تحت انصاف مل سکے گا۔ انل دیشمکھ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور اس پر فوری عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سد باب کیا جا سکے۔

بدلاپور واقعے کے خلاف 24 اگست کو ایم وی اے کا مہاراشٹر بند کا اعلان

ممبئی: مہاوکاس اگھاڑی نے 24 اگست کو مہاراشٹر بند کی کال دیتے ہوئے ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ آج ممبئی میں مہاوکاس اگھاڑی کی اہم اتحادی پارٹیوں کی میٹنگ ہوئی، جس میں اس بند کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بند میں ایم وی اے کی تمام پارٹیاں شامل ہوں گی۔ یہ اطلاع این سی پی- ایس پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے دی ہے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ مہاراشٹر میں خواتین اور بچیوں کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوا ہے جو ریاست میں محکمہ داخلہ کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت غیر فعال ہے اور اسی کے خلاف احتجاج کے طور پر 24 اگست کو مہاراشٹر بند کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بند میں مہاوکاس اگھاڑی کی تمام اتحادی پارٹیاں شامل ہوں گی۔

بدلاپور واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے جینت پاٹل نے بتایا کہ اس کیس میں ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر ہوئی جبکہ اسکول انتظامیہ نے بھی معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں بچوں کے خلاف جرائم 2014 میں 8000 تھے جو اب بڑھ کر 22000 ہو گئے ہیں، جبکہ خواتین پر ہونے والے مظالم کے واقعات کی تعداد 26000 سے بڑھ کر 50000 تک پہنچ چکی ہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس میں کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading