بدلاپور میں بچوں پر تشدد کے خلاف 24 اگست کو ایم وی اے کا ’مہاراشٹر بند‘: نانا پٹولے
بدلاپور واقعہ نے انسانیت پر سیاہ دھبہ لگا دیا، کیس کو دبانے کی کوشش، اسکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی غائب
خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت کے تئیں حکومت اور پولیس کی ناقابل معافی غفلت، خواتین اور بچوں کے استحصال میں بھی مہاراشٹر سب سے آگے
ممبئی: بدلاپور میں دو بچوں پر جنسی تشدد کے واقعے نے مہاراشٹر سمیت پورے ملک کو ہلا دیا ہے۔ اس واقعے نے ریاست انسانیت پر سیاہ دھبہ لگا دیا ہے۔ بدلاپور کا وہ اسکول جہاں یہ انتہائی گھناؤنا و سنگین واقعہ پیش آیا ہے وہ بی جے پی آر ایس ایس سے وابستہ ہے۔ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس سکول کی بدنامی نہ ہو۔ اسکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے اس معاملے میں ’مہا بھرشٹ یوتی‘حکومت کے خلاف 24 اگست کو مہاراشٹر بند کی کال دیتے ہوئے عوام سے اس بند میں بڑے پیمانے پر شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
بدلاپور کے اس لرزہ خیز واقعے نے ریاست میں خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کے سنگین مسئلے کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ اس لیے آج مہاوکاس اگھاڑی کی میٹنگ میں سیٹ الاٹمنٹ پر ہونے والی بحث کو منسوخ کر دیا گیا اور ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات اور خواتین کی حفاظت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان، ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ، این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل، سابق وزیر انل دیشمکھ، جتیندر اوہاڈ، شیوسینا لیڈر سنجے راؤت اور سابق وزیر اسلم شیخ و دیگر اہم لیڈران موجود تھے۔
میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر نے بدلاپور واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت پر اقتدار کا نشہ سوار ہو گیا ہے۔ ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت اپنے ہی اہنکار میں ڈوبی ہوئی ہے۔ لاڈکی بہین کے طور پر 1500 روپے دینے کے لیے بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد ہو رہا ہے لیکن بہنوں کو کوئی تحفظ نہیں دیا جا رہا ہے۔ اب تو سوال یہ پیدا ہونے لگا ہے کہ ریاست میں حکومت، وزارت داخلہ و انتظامیہ کا کوئی وجود ہے کہ نہیں۔ نانا پٹولے نے کہا کہ بدلاپور واقعہ میں پولیس کے کردار پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ شکایت درج کرانے گئی متاثرہ کی ماں کو گھنٹوں تھانے میں بٹھا کر رکھا گیا۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کس کے دباؤ میں کام کر رہی ہے اور حکومت کس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بدلاپور میں لوگوں نے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے ایک عوامی تحریک چلائی لیکن حکومت و انتظامیہ کے ذریعے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ریاست میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کی سوئی ہوئی بی جے پی کی مہایوتی حکومت کو بیدار کرنے کے لیے 24 اگست کو مہاراشٹر بند کی کال دی گئی ہے۔ اس بند میں ایم وی اے کی تمام پارٹیاں حصہ لیں گی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹروں، وکلاء، والدین کو بھی اس بند میں حصہ لینا چاہئے اور بدلا پور کے متاثرین کے خاندانوں کو انصاف دلانے کے لئے حکومت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔
اڈانی مہا گھوٹالے کی تحقیق کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے: ناصر حسین
نریندر مودی حکومت اڈانی گھوٹالے کی جے پی سی انکوائری سے کیوں خوفزدہ ہے؟
وزیر اعظم مودی کی طرف سے خصوصی صنعتکار دوست کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال
ممبئی: وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے خاص صنعت کار دوست اڈانی کے بدعنوان اتحاد کی وجہ سے ملک کو بہت زیادہ معاشی نقصان ہو رہا ہے۔ اس ایک دوست کے لیے سرکاری مشینری کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہنڈن برگ کی رپورٹ نے اڈانی سیبی اور مودی کے تعلقات کو بے نقاب کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے لیکن مودی حکومت اس پر مکمل خاموش ہے۔ آخر مودی حکومت اڈانی مہاگھوٹالے کی جے پی سی انکوائری سے کیوں خوفزدہ ہے؟ یہ سوال کانگریس ورکنگ کمیٹی اور راجیہ سبھا کے رکن ڈاکٹر ناصر حسین نے پوچھا۔
تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایم پی ڈاکٹر ناصر حسین نے اڈانی-مودی اور سیبی گھوٹالے کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سیبی کو اڈانی گھوٹالے کی دو ماہ میں انکوائری کا حکم دیا تھا لیکن 8 ماہ گزرنے کے بعد بھی انکوائری مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ سیبی جسے اڈانی کی بدعنوانی کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا، اس کی سربراہ مادھوی بچ بھلا اڈانی کی تحقیقات کیسے کریں گی کیونکہ اڈانی کی کمپنی میں ان کی سرمایہ کاری ہے۔ اڈانی کمپنی میں سرمایہ کاری میں شیل کمپنیوں اور منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر ملک کے وزیر اعظم کا نام کسی گھوٹالے سے جڑا ہوا ہے تو اس کی تحقیقات کر کے حقائق کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے، لیکن بی جے پی حکومت اور مودی ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر حسین نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے بجلی کے پروجیکٹ اڈانی کو دیں۔ وزیر اعظم مودی جب بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو اڈانی کو اپنے ہوائی جہاز میں لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی کو ہوائی اڈے، بندرگاہیں، سیمنٹ کمپنیاں دلوانے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ناصر حسین نے کہا کہ سی بی آئی نے 6 جون 2017 کو این ڈی ٹی وی کے دفتر اور اس کے بانی پرنوئے رائے کے گھر پر چھاپہ مارا اور بعد میں 6 مارچ 2023 کو اڈانی این ڈی ٹی وی میں 64.71 فیصد کے مالک بن گئے۔ سی بی آئی کی ٹیم نے 11 دسمبر 2020 کو اے سی سی، امبوجا سیمنٹ کے دفاتر پر چھاپہ مارا اور بعد میں امبوجا سیمنٹ اڈانی کی ایک کمپنی بن گئی۔ 28 جولائی 2020 کو ای ڈی نے ممبئی ایئر پورٹ چلانے والی کمپنی جی وی کے کے دفاتر پر چھاپہ مارا اور پھر 14 جولائی 2021 کو اڈانی نے اس کمپنی میں 98 فیصد حصہ حاصل کر لیا۔ نیلور کرشنا پٹنم بندرگاہ پر انکم ٹیکس حکام نے 29 مارچ 2018 کو چھاپہ مارا اور 5 اکتوبر 2020 کو اڈانی پورٹس اور ایس ای زیڈ نے کرشنا پٹنم بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ سرکاری بینکوں، مالیاتی اداروں، اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور ایل آئی سی نے اڈانی کی کمپنی میں بڑی رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ڈاکٹر ناصر حسین نے کہا کہ اڈانی گھوٹالے میں ہنڈن برگ کی رپورٹ برفانی تودے کا صرف ایک سرا ہے۔
اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ناصر حسین کے ساتھ سابق وزیر امیت دیشمکھ، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر نانا گاونڈے، چیف ترجمان اتل لونڈھے، ریاستی جنرل سکریٹری پرمود مورے، راجیش شرما، رمیش شیٹی، حسنہ بانو خلیفے اور سابق ایم ایل اے ایم ایم شیخ وغیرہ موجود تھے۔