مہاراشٹر میں بڑھتے جرائم، پولیس کا خوف ختم، لاڈکی بہن اسکیم میں 4900 کروڑ کی بدعنوانی: سپریا سولے
ممبئی:2 اگست 2025
نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کی قومی ورکنگ صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے ریاست مہاراشٹر میں بڑھتے جرائم، لاڈکی بہن اسکیم میں مبینہ بدعنوانی اور حکومت کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں دو تین ایسے اضلاع ہیں، جہاں مسلسل جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں پونے اور بیڑ جیسے اضلاع سرفہرست ہیں۔ عوام کو انصاف نہیں مل رہا، پولیس و قانون کا خوف باقی نہیں رہا اور مجرموں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یہ پتہ نہیں چل رہا۔ ان تمام حالات میں حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے، جو تشویشناک ہے۔
سپریا سولے نے بیڑ ضلع کے پرلی علاقے کے تاجر مہادیو منڈے کے قتل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وحشیانہ قتل کو دو سال ہو چکے ہیں اور تحقیقات میں تساہلی برتی گئی۔ حال ہی میں مقتول کی بیوی گیانیشوری منڈے نے خودسوزی کی کوشش کی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سے ان کی ملاقات کے بعد ایس آئی ٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ سولے نے مطالبہ کیا کہ اس ایس آئی ٹی کی تحقیقات مکمل شفافیت سے کی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔ دونڈ تعلقہ کے یوت گاؤں میں حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے سولے نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے۔ دونڈ ایک شائستہ، مہذب اور باوقار تعلقہ ہے، جہاں وہ طویل عرصے سے عوام کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ انہوں نے مقامی ایم ایل اے راہل کول کے ساتھ بات چیت کی، حالانکہ ان کے درمیان سیاسی اختلافات ہیں، مگر مضبوط جمہوریت میں مکالمہ ضروری ہے۔ انہوں نے راہل کول کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
سپریا سولے نے کہا کہ ان کے ساتھی اپا صاحب پوار اور سہیل بھائی خان نے یوت جا کر مقامی شہریوں، کارکنان اور عہدیداران سے بات چیت کی۔ دونڈ میں کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی اور آئندہ بھی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر کوئی باہر سے آ کر ماحول بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کی مذمت کریں گے۔ انہوں نے نگراں وزیر، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اپنے لوگوں کو قابو میں رکھیں، کیونکہ یہی لوگ دونڈ آ کر اشتعال انگیز تقریریں کرتے ہیں، اور عوامی امن کو برباد کرتے ہیں۔ سپریا سولے نے کہا کہ شرد پوار صاحب اور وہ خود دونڈ کے عوام سے محبت اور تعاون حاصل کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اجیت دادا پوار سے اپیل کی کہ بطور نگراں وزیر وہ مداخلت کریں، کیونکہ دونڈ نے انہیں بے پناہ محبت دی ہے اور اگر کوئی باہر سے آ کر نفرت یا بدامنی پھیلانا چاہے، تو اسے روکنا حکومت کا فرض ہے۔
پونے میں سرمایہ کاری کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے خود اعتراف کیا ہے کہ شہر میں داداگیری بڑھ گئی ہے اور سرمایہ کاری نہیں آ رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ کو معلوم ہے کہ پونے میں حالات خراب ہیں تو اب تک انہوں نے کیا کارروائی کی؟ داداگیری کے ذمہ دار کون ہیں؟ حکومت کو یہ وضاحت کرنی چاہیے۔ ریاست کی معاشی بدحالی پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ کسان خودکشیاں کر رہے ہیں اور لاڈکی بہن اسکیم میں 4900 کروڑ روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس حکومت کو اتنا بڑا عوامی مینڈیٹ ملا ہو، اس کے وزراء اور ترجمان اگر اس طرح کے الزامات میں ملوث ہوں تو یہ دکھ کی بات ہے۔ طاقت اور دولت کے نشے میں حکومت غلط سمت میں پر چل پڑی ہے اور موجودہ مہاراشٹر حکومت ملک کی سب سے بدترین مثال بن چکی ہے۔
سپریا سولے نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں میں پہلگام دہشت گرد حملے اور بہار میں انتخابی عمل پر بحث ہوئی ہے، جس میں کئی پارٹیوں نے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں رد و بدل ہو رہا ہے اور شفافیت کا فقدان ہے۔ اس سلسلے میں سپریا سولے نے زور دے کر کہا کہ یہ ملک کسی کی مرضی سے نہیں بلکہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کے مطابق چلے گا اور شفاف انتخابات جمہوریت کی روح ہیں۔
NCP-SP Urdu News 2 August 25.docx