شندے سینا کو اگر احتجاج کرنا ہی تھا تو فڑنویس کی رہائش گاہ پر کرتے: ہرش وردھن سپکال
پاکستان کی تشکیل کے نظریے کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی حمایت
اگر بی جے پی کا مارچ کانگریس دفتر تک آتا تو ہم انہیں ’ہُو کِلڈ کرکرے‘ کتاب تحفے میں دیتے
مالیگاؤں بم دھماکہ کس نے کیا؟ فڑنویس حکومت سپریم کورٹ کب جائے گی؟
ممبئی: 2 اگست 2025
’غدار سینا‘ کو کانگریس کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں۔ کانگریس کا نظریہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے والا ہے، جبکہ پاکستان کی تشکیل کے نظریے کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی تائید حاصل رہی ہے۔ جب آزادی کی جدوجہد جاری تھی، تب فڑنویس کی پارٹی نے محمد علی جناح کی مسلم لیگ سے اتحاد کیا تھا اور اسی مسلم لیگ کی حکومت میں بی جے پی کے رہنما شیاما پرساد مکھرجی نائب وزیراعلیٰ تھے۔ اس لیے اگر شندے سینا کو احتجاج کرنا ہی تھا، تو انہیں فڑنویس کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے شندے کی قیادت والی شیو سینا اور بی جے پی کی جانب سے کانگریس کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کو یہ احتجاجی مارچ اپنی ہی حکومت کے ایک وزیر کے گھر کے سامنے نکالنا چاہیے تھا۔ اس وزیر کے بھائی ’ہُو کلڈ کرکرے‘ کتاب کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں ہر چیز کا جائزہ لیا گیا ہے، یہاں تک کہ آر ایس ایس کے تعلق کا بھی تفصیل سے ذکر ہے۔ اس لیے شندے سینا و بی جے پی کا احتجاجی مارچ غلط مقام پر نکالا گیا۔ اگر وہ کانگریس کے دفتر آتے، تو ہم انہیں یہ کتاب تحفے میں دیتے۔
سپکال نے مزید کہا کہ ممبئی ریلوے بم دھماکوں اور مالیگاؤں بم دھماکوں کے دونوں مقدمات پر عدالتوں نے فیصلے سنا دیے ہیں۔ ریلوے بم دھماکوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اعلان فوری طور پر کیا گیا لیکن مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں حکومت نے ابھی تک کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔ مالیگاؤں دھماکے کے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے خلاف فڑنویس حکومت سپریم کورٹ جائے گی یا نہیں؟ انہیں اس پر وضاحت کرنی چاہیے۔ اور یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ آخر کیا کس نے تھا؟
سپکال نے کہا کہ مہاراشٹر کو آئی پی ایس افسر ہمنت کرکرے پر فخر ہے۔ وہ شہید ہوئے۔ ہر سال 26/11 کو ان کی تصویر پر پھول چڑھائے جاتے ہیں، لیکن اب ان پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے جا رہے ہیں۔ یہ بی جے پی، فڑنویس اور ان کے ساتھیوں کی دوغلی پالیسی ہے۔ مالیگاؤں بم دھماکے کے سلسلے میں بی جے پی کے لوگوں کو شہید ہمنت کرکرے اور اُس وقت کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے انٹرویوز دیکھنے چاہئیں۔ تب انہیں پتا چلے گا کہ کس طرح چارج شیٹ بدلی گئی اور خصوصی سرکاری وکیل روہنی سالیان کو یہ کیس نرم کرنے کو کس نے کہا۔ ان تمام واقعات کو جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے۔
MPCC Urdu News 2 August 25.docx