حکومت وقف کی زمینوں پر قبضے یا مداخلت کی کوشش نہ کرے: جیتندر اوہاڈ
ہمارے رہنما شرد پوار ہیں، فرقہ پرستوں کا ساتھ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
ممبئی: بھارت جیسے سیکولر ملک میں عوام کی مذہبی املاک میں حکومت کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔ وقف کی زمینیں خیرات اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مخصوص کی جاتی ہیں، جن پر کسی فرد یا ادارے کا ذاتی حق نہیں ہوتا۔ حکومت کو ان زمینوں پر ناجائز دعوے یا قبضے کی کوشش سے باز رہنا چاہیے بلکہ ایسے قوانین بنانے چاہئیں جو وقف جائیدادوں کو عوامی مفاد میں محفوظ رکھ سکیں۔ ان خیالات کا اظہار نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد پوار کے سینئر لیڈر جیتندر اوہاڈ نے ممبئی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
جیتندر اوہاڈ نے سوال کیا ہے کہ ممبئی میں مکیش امبانی کا گھر کس زمین پر ہے؟ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مسلم سماج کے بعض لیڈروں نے وقف جائیدادوں کا غلط استعمال کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ آج ملک میں بحث ہو رہی ہے کہ جنوبی ہند کے مندروں میں اتنا سونا ہے کہ اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو بھارت امیر ترین ملک بن سکتا ہے، تو پھر وقف بورڈ کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ ایک بار زمین وقف ہو گئی تو وہ سماج کے لیے وقف ہو گئی، اسے دوبارہ کسی کے نام منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت کو قانون سازی کرنی ہی ہے تو ایسا قانون بنائے کہ کوئی بھی ان زمینوں پر غلط نظر نہ ڈال سکے۔ یہ زمینیں ان افراد کے آبا و اجداد نے فلاحی مقاصد کے لیے وقف کی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم سماج کے چند رہنماؤں نے قوانین کا غلط استعمال کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت وقف جائیدادوں کو آزاد بازار میں فروخت کے لیے پیش کر دے۔ دہلی کے مرکزی علاقے میں بھی اب وقف کی زمینوں کو بیچا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ بھی وقف کی زمین پر قائم ہے، وقف اس پر بھی دعویٰ کرے گا۔ کیا ہم مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم نہیں کریں گے؟ پارلیمنٹ برطانوی دور میں تعمیر ہوئی تھی، تب وہ لوگ کہاں تھے جو آج اعتراض کر رہے ہیں؟ اس وقت ان کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو جیسے ذمہ دار افراد پارلیمنٹ میں غلط بیانات دیتے ہیں، جو عالمی سطح پر بھارت کی شبیہ خراب کرتا ہے۔
جیتندر اوہاڈ نے یہ بھی کہا کہ عوام اور پولیس کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ اسی مقصد کے تحت مہاراشٹر میں ہر سال پولیس اسٹیشنوں میں افطار پارٹی کا انعقاد کیا جاتا تھا، لیکن اس سال جب دعوت نامے چھپ چکے تھے، تو اچانک اوپر سے حکم آیا کہ اسے منسوخ کر دیا جائے۔ آخر حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟ اوہاڈ نے حکومت سے سوال کیا کہ ہندو مندروں میں اربوں روپے کا سونا موجود ہے، تو کیا حکومت اسے بھی اپنے قبضے میں لے گی؟ حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں نیشنلسٹ کانگریس پارٹیاں نظریاتی اور عملی طور پر الگ ہیں۔ ہمارے رہنما شرد پوار صاحب ہیں، اور ہمارے نظریات گاندھی اور نہرو کے اصولوں پر مبنی ہیں، اس لیے فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس بارے میں کسی بھی طرح کی غلط فہمی پیدا نہ ہونے دی جائے۔