وقف ترمیمی بل کی آڑ میں صنعتکاروں اور بلڈروں کو زمین دینے کی بی جے پی حکومت کی سازش
فصل بوائی سے قبل کسانوں کے قرضہ جات معاف کیے جائیں، اگر ٹرپل انجن حکومت میں طاقت ہے تو وہ مرکز سے خصوصی پیکیج لائے: ہرش وردھن سپکال
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہریشوردھن سپکال نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف ترمیمی بل کی آڑ میں صنعتکاروں اور بلڈرز کو زمینیں دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت مذہبی نقطہ نظر سے وقف ترمیمی بل کو دیکھ رہی ہے اور اسے صنعتکاروں اور بلڈرز کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی حقوق پر حملہ ہوگا، جس کی کانگریس شدید مخالفت کرے گی۔
کانگریس کے صدر دفتر تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتےہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ دھاراوی کی زمین پہلے ہی اڈانی کے حوالے کر دی گئی، شکتی پیٹھ مارگ کے نام پر کوکن کی زمین اڈانی اور امبانی کے ہاتھوں میں سونپی جا رہی ہے اور اب یہی کھیل وقف جائدادوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بی جے پی حکومت مسلمانوں کی زمینیں چھین کر اپنے سرمایہ دار دوستوں کو دینا چاہتی ہے؟
سپکال نے کسانوں کے مسائل پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہا یوتی نے انتخابات کے دوران کسانوں کو قرض معافی دینے اور ’لاکی بہن‘ اسکیم کے تحت خواتین کو 1500 روپے سے بڑھا کر 2100 روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب حکومت اپنی بات سے مکر گئی ہے۔ الٹا کسانوں پر دباؤ ڈال کر 31 مارچ تک قرض ادا کرنے کا فرمان جاری کر دیا گیا، جو کہ سراسر دھوکہ دہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہا یوتی کی ٹرپل انجن حکومت میں واقعی کوئی طاقت ہے، تو وہ مرکز سے مہاراشٹر کے لیے خصوصی پیکیج حاصل کرے اور کسانوں کو فصل کی بوائی سے قبل قرض معافی دے، ورنہ عوام اسے سخت جواب دے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ حکومت نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں کسی بھی عوامی مسئلے پر کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ حکومت نے بڑے بڑے دعوے کیے، مگر خود اپنے انتخابی منشور کو بھول چکی ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا اور اورنگ زیب کی قبر کھودنے میں وقت ضائع کیا گیا، جبکہ بیروزگاری، کسانوں کے مسائل اور فصلوں کی مناسب قیمت جیسے حقیقی مسائل کو نظرانداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دیویندر فڑنویس وزیر اعلیٰ تھے، تو انہوں نے کھڈک پورنا نہر کے پانی کے منصوبے کو مقامی ایم ایل اے کے یوم پیدائش پر بطور تحفہ منظوری دی تھی، لیکن اب وہی منصوبہ ناممکن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوہرے رویے کی وجہ سے کسان بدحال ہو چکے ہیں اور ایک نوجوان کسان کیلاش ناگرے نے اسی پانی کے مسئلے پر خودکشی کر لی۔ انہوں نے کہا کہ کسان حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا ہوا تیرا وعدہ؟
ہرش وردھن سپکال نے وزیر اعظم نریندر مودی کی آر ایس ایس ہیڈکوارٹر ناگپور آمد پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 11 سال بعد مودی کو اچانک آر ایس ایس کی یاد کیوں آئی؟ انہوں نے کہا کہ مودی کی کرسی اب خطرے میں ہے، اسی لیے وہ آر ایس ایس کا سہارا لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، بی جے پی میں بوکھلاہٹ واضح نظر آ رہی ہے اور اسے اپنے زوال کا خوف ستا رہا ہے۔ عوام اب جھوٹے وعدوں کو پہچان چکی ہے اور آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو مناسب جواب دے گی۔