حکومت کسانوں کی مدد کے نام پر دھوکہ کر رہی ہے
بارش اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے نام پر محض اعداد و شمار کا کھیل کھیلا جا رہا ہے: روہت پوار
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس شرد چندر پوار کے جنرل سیکریٹری اور رکن اسمبلی روہت پوار نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کے ساتھ مدد کے نام پر سراسر فریب کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے جو امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے، وہ نہ صرف مبہم بلکہ دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ اس پر بحث سے بچنے کے لیے ہی حکومت نے سرمائی اجلاس کی مدت صرف دس دن رکھی ہے، جبکہ یہ اجلاس تین ہفتوں تک ہونا چاہیے تھا تاکہ عوامی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہو سکے۔
روہت پوار نے کہا کہ جب دیویندر فڑنویس حزبِ اختلاف کے لیڈر تھے تو وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اجلاس کم از کم تین ہفتوں کا ہونا چاہیے، مگر اب جب کسان مصیبت میں ہیں تو حکومت خود اس اصول کو بھول گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ کسانوں کی مشکلات کو سنجیدگی سے سنے اور کسانوں کے حق میں فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے نام پر محض اعداد و شمار کا کھیل کھیلا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسانوں کو آج بھی کوئی ٹھوس مدد نہیں ملی۔ شکتی پیٹھ ہائی وے کے لیے چوبیس ہزار کروڑ روپے مانگنے کی تیاری کی جا رہی ہے، لیکن کسانوں کے لیے حکومت کے پاس رقم نہیں۔ مقامی انتخابات کو سامنے رکھ کر ساری حکمتِ عملی بنائی جا رہی ہے، جو افسوسناک ہے۔
روہت پوار نے مزید کہا کہ ہم نے حکومت سے بارہا مطالبہ کیا تھا کہ ریاست میں ’ قحط باراں‘ یعنی بارش سے ہوئی تباہی کو باضابطہ تسلیم کیا جائے۔ طلبہ کی فیس کے معاملے میں بھی حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ امتحانی فیس تو دینے کی بات کی جا رہی ہے مگر کالج فیس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انتخابات سے پہلے کسان قرض معافی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر آج تک قرض معاف نہیں کیے گئے۔ اگر کسان مصیبت میں ہیں تو وہاں مزدور بھی کام نہیں کر سکتے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ کسان مزدور خاندانوں کو کم از کم چھ ماہ تک جینے کے لیے فی خاندان چھبیس ہزار روپے امداد دے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایف کے تحت مرکز سے چھ ہزار ایک سو پچھتر کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے پینسٹھ لاکھ ہیکٹر نقصان کی بنیاد پر دس ہزار روپے فی ہیکٹر کے حساب سے چھ ہزار پانچ سو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح دونوں امداد کو ملا کر کل تیرہ ہزار کروڑ روپے بنتے ہیں۔ مگر زمینی سطح پر کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ کنوؤں کے لیے تینتیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، لیکن فی کنواں محض بیس سے تیس ہزار روپے کی امداد دی جا رہی ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہر کنویں کے لیے کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے دیے جانے چاہئیں۔
روہت پوار نے کہا کہ 42 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان کے لیے وزیرِاعظم آواس یوجنا کے تحت ڈیڑھ لاکھ روپے دیے جائیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پہلے سے واجب الادا رقوم ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔ لہٰذا ہماری مانگ ہے کہ کسانوں کے کھاتوں میں فوری طور پر رقم منتقل کی جائے۔ حکومت کی جانب سے بارہ سے تیرہ ہزار کروڑ روپے کے امدادی دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر یہ سب محض انتخابی ڈرامہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی انصاف محکمہ، جس کا مقصد پسماندہ طبقات کو تعلیم اور صحت جیسی سہولتیں فراہم کرنا ہے، اب حکومت اسے محض انتخابی اسکیموں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ’لاڈکی بہین‘ کے نام پر خواتین کو دیا جانے والا فنڈ اسی محکمہ کے بجٹ سے نکالا جا رہا ہے، جس سے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے تعلیمی اور سماجی حقوق پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ حکومت کو ان طبقات کی فکر نہیں، انہیں صرف انتخابات کی فکر ہے۔ انتخابات کے بعد یہی اسکیم بند کر کے کارکنوں کو عدالتوں کے چکر لگوائے جائیں گے۔
NCP-SP Urdu News 9 Oct. 25.docx
