بین الاقوامی برادری کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے اعلان پر وسیع تر خیرمقدم کے بعد معاہدہ نافذ ہوگیا ہے۔ العربیہ اور الحدث کی نامہ نگار کے مطابق یہ معاہدہ مرحلہ وار منصوبے کے تحت عمل میں آیا ہے۔
ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے اور حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔مزید یہ کہ ثالث ذرائع نے قیدیوں کی حالت کے بارے میں اطمینان ظاہر کیا ہے، جبکہ ریڈ کراس کے ساتھ ان کی حوالگی کے لیے عملی رابطہ شروع ہو چکا ہے۔ ثالث معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جنگ بندی کا باضابطہ آغاز حکومت کی منظوری کے بعد آج شام ہوگا۔
اسرائیلی کابینہ کے اجلاس
ان معلومات کے سامنے آنے کے ساتھ ہی دو برس سے محصور اور تباہ حال غزہ کی پٹی میں خوشی کی فضا چھا گئی۔اسرائیلی سکیورٹی و سیاسی کابینہ (کیبنٹ) کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے طلب کیا گیا ہے تاکہ معاہدے کی توثیق کی جا سکے، جب کہ حکومت کا وسیع تر اجلاس شام پانچ بجے ہوگا۔
عبرانی اخبار ’يسرائيل هيوم‘ کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو کیبنٹ اور حکومت دونوں میں معاہدہ منظور کرانے کے لیے واضح اکثریت حاصل ہے۔ تاہم وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے خلاف ووٹ دیں گے، مگر حکومت سے علیحدگی اختیار نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج آئندہ 24 گھنٹوں میں جنوبی خان یونس سے شمالی بیت ل ھیہ ا تک کئی علاقوں (جنہیں ’پیلی لائن سے ظاہر کیا گیا ہے) سے انخلا کا عمل شروع کرے گی۔
قیدیوں کی رہائی کا مرحلہ
معاہدے کے تحت تمام اسرائیلی زندہ قیدیوں کو ایک ہی مرحلے میں، بغیر کسی رسمی تقریب کے، 72 گھنٹوں کے اندر رہا کیا جائے گا، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بتدریج حوالے کی جائیں گی۔
خان یونس میں غزہ کے باشندوں نے جنگ بندی کے اعلان پر جشن منایا۔خان یونس میں غزہ کے باشندوں نے جنگ بندی کے اعلان پر جشن منایا۔
اس کے بدلے میں تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، جن میں 250 ایسے ہیں جنہیں طویل یا عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، اس کے علاوہ وہ قیدی بھی شامل ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے آپریشنل تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات ہوئے، جن میں قطر، مصر، ترکیہ اور امریکہ نے بھی حصہ لیا۔ ان مذاکرات کا مقصد اس منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2025 کے آخر میں پیش کیا تھا۔