ممبئی: کورونا بحران کے باوجود اسکولوں کی جانب سے بچوں کے والدین پر فیس بھرنے کے مطالبے کے درمیان آج سابق وزیر عارف نسیم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسکولوں کواپنی فیس میں 50 فیصد رعایت دینے کی ہدایت جاری کرے۔نسیم خان نے یہ مطالبہ ایک مکتوب کی شکل میں کیا ہے جو انہوں نے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے اور اسکولی تعلیم کی وزیر ورشاگائیکواڑ کو روانہ کیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کو زبردست دشواروں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اپنے روزگار سے ہاتھ دھونا پڑگیا ہے جبکہ عام لوگوں کے ساتھ ملازمت پیشہ اور کاروباری اوسط طبقے کے لوگوں کو بھی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لوگوں کو زندہ رہنا مشکل ہورہا ہے اور ایسے میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین پر فیس بھرنے کا دباؤ ڈالا ان کے اوپرسراسر ظلم ہے۔ کورونا کی وجہ سے معاشی مشکلات سے دوچاربیشتر والدین کے لئے اسکول کی فیس بھرنا ممکن نہیں ہے۔ اس صورت حال کو پیشِ نظر اسکولی فیس میں 50 فیصد رعایت کرتے ہوئے بقایا فیس مرحلہ وار بھرنے کی سہولت دی جانی چاہئے۔

وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے اور اسکولی تعلیم کی وزیر ورشاگائیکواڑ کو روانہ کئے گئے اپنے مکتوب میں نسیم خان نے کہاہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے ریاست کی تمام اسکولیں بند ہیں اور آن لائن کلاسیں چل رہی ہیں تو دوسری جانب اسکول انتظامیہ کی جانب سے طلبا کو پوری فیس بھرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔ طلباء کے والدین کی معاشی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس بات کو یقینی بنانی چاہئے کہ والدین کی جانب سے فیس بھرنے میں معذوری کے سبب طلباء کو نقصان نہیں ہوگا۔ایسی صورت میں جو اسکول فیس وصول کرنے میں زبردستی کریں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور طلباء و ان کے والدین کو راحت دی جائے۔