ممبئی: سابق وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان نے مہاراشٹر کی بی جے پی مہایوتی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم برادری کو دیے گئے 5 فیصد تعلیمی اور ملازمتوں کے ریزرویشن کو منسوخ کرنا نہ صرف غلط فیصلہ ہے بلکہ یہ اقلیتی طبقے کے ساتھ صریح ناانصافی بھی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس اقدام کے ذریعے حکومت نے اقلیتی برادری کو ترقی کے دھارے میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت پسماندہ اور اقلیتی طبقات کے مفادات کے خلاف ہے۔
تلک بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ 2014 میں کانگریس قیادت والی اتحادی حکومت نے مسلم سماج کے پسماندہ طبقات کو 5 فیصد تعلیمی اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن دینے کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔ بعد ازاں قائم ہونے والی دیویندر فڑنویس حکومت نے اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں کی۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بھی مسلم برادری کے پسماندہ طبقات کو 5 فیصد تعلیمی ریزرویشن دینے کا عبوری حکم دیا تھا اور 2014-15 کے تعلیمی سال میں اس کا نفاذ شروع بھی ہوا، مگر بعد میں بی جے پی حکومت نے اس عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ نسیم خان کے مطابق کانگریس نے اس معاملے کو مسلسل اٹھایا، جس پر حکومت نے یقین دہانیاں تو کرائیں، لیکن عملی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کانگریس دور میں شروع کی گئی متعدد اسکیمیں موجودہ حکومت نے بند کر دی ہیں۔ طلبہ کے لیے شروع کی گئی وظائف اسکیموں پر بھی خاطر خواہ عمل نہیں ہو رہا۔ اس مد میں سالانہ تقریباً 90 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں، مگر حکومت نے محض 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو ناکافی ہیں۔ نسیم خان نے واضح کیا کہ اقلیتی برادری میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں بلکہ جین، سکھ اور پارسی طبقات بھی شامل ہیں، اس لیے یہ معاملہ وسیع تر اقلیتی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔
نسیم خان نے اقلیتی درجہ سرٹیفکیٹ کے معاملے پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے انتقال کے دن بعض اسکولوں کو اقلیتی درجہ کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق اقلیتی محکمہ میں بدعنوانی کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہر سرٹیفکیٹ کے لیے 5 سے 10 لاکھ روپے وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تقریباً 70 سے 75 اسکولوں، جن میں بعض بڑے تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں، کو اقلیتی درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی ای قانون کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم کا حق یو پی اے حکومت نے دیا تھا، اور بعض ادارے اس ذمہ داری سے بچنے کے لیے اقلیتی درجہ حاصل کرتے ہیں۔
نسیم خان نے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام مشتبہ سرٹیفکیٹس فوری طور پر منسوخ کیے جائیں اور اس معاملے کی سی آئی ڈی یا ایس آئی ٹی کے ذریعے غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جائے۔ انہوں نے ذمہ دار افسران کی معطلی اور سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی طبقات کو آئینی حقوق سے محروم کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے اور کانگریس اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔