دھرم آباد:21ستمبر(نامہ نگار)دھرم آبادتعلقہ کے زیر بحث بابلی ڈیم معاملے میںوزیر اعلی آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو اور 15 دیگر کے خلاف درج کیا گیا تھا.آج دھرم آباد عدالت میں تین سابقہ ارکان اسمبلی کی حاضری ہوئی ۔ انھیںفی کس پانچ ہزار روپے جرمانہ اور ضمانت کےلئے فی کس 15ہزار روپے جمع کرنے پڑے ۔ جبکہ 15اکتوبر کوچندرابابونائیڈو کو دھرم آباد عدالت میںحاضرر ہنے کاحکم دیاگیا ہےمہاراشٹر کی گوداوری ندی پر پشتوں کی تعمیر پر حکومت مہاراشٹراور آندھراپردیش حکومت کے درمیان تنازعہ ہوگیاتھا۔سال 2010ءمیں بابلی ڈیم کے احاطہ میں حکم امتناعی نافذ ہونے کے باوجودچندرا بابو نائیڈو اپنے تیلگودیشم کے حامیوں کے ہمراہ یہاں پہنچ گئے تھے ۔ مگر سرحد پر ہی پولس نے انھیں روک دیاتھا ۔اسکے باوجود زبردستی نائیڈواپنے ورکرس کے ہمراہ ڈیم کے پاس گھس گئے اسلئے سرکاری کام میں رخنہ اندازی کامقدمہ چندرابابو اورتیلگودیشم کے پندرہ ایم ایل ایز و ورکرس کے خلاف درج کیاگیاتھا۔ اس وقت کی کانگریس حکومت نے بابو کو بذریعہ اورنگ آباد حیدرآباد واپس بھیج دیاتھا۔دھرم آباد عدالت میں مقدمہ کی سماعت جاری تھی لیکن ایک مرتبہ بھی چندرابابواور انکے حامی عدالت میںحاضر نہیں ہوئے ۔ آج عدالت میںٹی. پرکاش گوڈ، جی. گنگولا کملاکر، کے ایس رتنم حاضر ہوئے ۔انکے وکیل سدھیر چنتاوار نے درخواست پیش کرکے ضمانت طلب کی . جج این. آر. گجبھئے نے تین سابق ایم ایل اے کو حکم دیا کہ انھیںفی کس پانچ ہزار روپے جرمانہ اور ضمانت کےلئے فی کس 15ہزار روپے جمع کرنے ادا کرنے ہے ۔اس موقع پر چندرابابونائیڈو ودیگر ملزمین کو عدالت میں حاضررہنے کیلئے 15اکتوبر کی مدت دی گئی ہے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایس پی نورالحسن ‘کی رہنمائی میں پی آئی بھاگوت جئے بھئے‘ کے علاوہ پولس ملازمین کثیرتعداد میں تعینات تھے۔