بی جے پی کی ٹرول آرمی کی جانب سے ورشا گائیکواڑ کی توہین، بی جے پی کی منووادی ذہنیت کا ثبوت: سچن ساونت

پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا ممبئی کانگریس کی قیادت کرنا منووادی سوچ کی اصل تکلیف

بی جے پی مہایوتی کے امیدواروں کا بلا مقابلہ منتخب ہونا جمہوریت کا قتل، الیکشن کمیشن کا کردار مشتبہ

ممبئی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سیکریٹری اور ممبئی کانگریس کے چیف ترجمان سچن ساونت نے بی جے پی کی ٹرول آرمی کی جانب سے ممبئی کانگریس کی صدر اور رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ کے خلاف کی گئی توہین پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ بی جے پی کے ذات پات پر مبنی اور منووادی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا ممبئی کانگریس کی قیادت کرنا ہی منووادی سوچ رکھنے والوں کی اصل پریشانی ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی کی ٹرول گینگ نے ایک ویڈیو کے ذریعے ورشا گائیکواڑ کو دانستہ طور پر ’ورشا بیگم‘ کہہ کر مخاطب کیا، ان کا مذہب بدلنے کا جھوٹا تاثر پیش کیا اور یہ الزام لگایا کہ وہ ایک غریب مسلم امیدوار کو ٹکٹ دے کر خوشامدی سیاست کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دراصل بی جے پی کی جانب سے مذہب کو اقتدار کی سیاست کے لیے استعمال کرنے کی گھٹیا کوشش ہے۔ ہندو مذہب رواداری، ہم آہنگی اور ’وسودھیو کوٹمبکم‘ جیسے آفاقی نظریے کا علمبردار ہے، مگر بی جے پی دانستہ طور پر اسے تنگ نظری اور نفرت سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، جو خود ہندو مذہب کی توہین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں منوسمرتی کا راج ہوتا تو ایک پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون کا اس طرح ایک بڑے سیاسی شہر کی قیادت کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ یہ آئینِ ہند کی بدولت ممکن ہوا ہے، مگر بی جے پی کی سیاست آئین نہیں بلکہ منووادی سوچ سے چلتی ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد اب میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بھی بی جے پی مہایوتی کے امیدواروں کا بلا مقابلہ منتخب ہونا جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ آئین نے ہر شہری کو ووٹ کا حق دیا ہے، مگر دباؤ، دھمکی اور سازش کے ذریعے عوام سے یہ حق چھینا جا رہا ہے۔ بی جے پی سام، دام، دند اور بھید کی سیاست کے ذریعے یہ سب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے الیکشن کمیشن کا کردار بھی سوالوں کے گھیرے میں آ گیا ہے۔ خاص طور پر قلابہ میں پیش آئے واقعات جمہوریت کا مذاق ہیں۔ سچن ساونت نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں کام کر رہا ہے؟ اور کیا آئین کے تحفظ کی ذمہ داری رکھنے والے ادارے ہی آج آئین پر حملہ آور بن گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس منووادی، غیر جمہوری اور آئین مخالف سیاست کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی اور عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

MRCC Urdu News 3 January 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading