MRCC Urdu News 17 November 25

ممبئی کے مستقبل کے لیے تنازع نہیں، ترقی ضروری ہے

ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ آزادانہ اتحاد کرکے کانگریس الیکشن لڑے گی: سچن ساونت

کانگریس اپنی نظریاتی بنیاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، بی جے پی اور ایم این ایس کی نفرت انگیز سیاست ممبئی کے لیے نقصان دہ

شہر کے اصل مسائل پر توجہ دینے کے لیے کانگریس کا آزادانہ میدان میں اترنا ناگزیر

ممبئی: ممبئی کے مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر نئی بحث چھیڑتے ہوئے کانگریس نے واضح کیا ہے کہ شہر کے لیے کسی بھی طرح کا سیاسی تنازع نہیں بلکہ ترقی، شمولیت اور انسانی قدروں پر مبنی حکمرانی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پارٹی نے بی جے پی اور ایم این ایس کی تقسیم پر مبنی سیاست کو ممبئی کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ میونسپل انتخاب میں وہ اپنی آئینی، جمہوری اور سیکولر فکر سے کسی قسم کی مفاہمت کیے بغیر ہم خیال پارٹیوں کے ساتھ آزادانہ اتحاد کر کے میدان میں اترے گی۔

ممبئی کانگریس کے چیف ترجمان اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری سچن ساونت نے راجیو گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کی تعمیر نو اور شہری نظام کی بہتری کے لیے باہمی تعاون، رواداری، شفافیت اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی ناگزیر ہے۔ بی ایم سی انتخابات کو مذہب، زبان اور شناخت کی بنیاد پر بانٹنے کی کوششیں دراصل شہر کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہیں اور کانگریس شہریوں کے حقوق، ترقیاتی ضرورتوں اور انتظامی شفافیت کے ایجنڈے کو مرکزی حیثیت دینے کے لیے آزادانہ طور پر میدان میں اتر رہی ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ کانگریس کی فکر آئین، جمہوریت، انصاف، مساوات، اخوت اور ہم آہنگی کے اصولوں پر قائم ہے اور اسی فکری اساس کو مضبوط بنانے کے لیے پارٹی کسی بھی طرح کی نظریاتی سوداگری قبول نہیں کرے گی۔ آج ملک میں دو نظریات کے درمیان ایک واضح کشمکش جاری ہے۔ ایک وہ جو ملک کی وحدت، تکثیریت اور اجتماعی ہم آہنگی کی حفاظت کی داعی ہے، جس کا نمائندہ کانگریس ہے اور دوسری وہ جو فرقہ وارانہ تقسیم، عدم برداشت، مسلسل خوف اور نفرت کی سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی جیسے حساس، کثیرالثقافتی اور عالمی شہر میں نفرت اور زہر آلود سیاست کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے بی جے پی کی سیاست کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی شہر میں ہندو۔مسلم تفریق کو ہوا دے کر انتخابی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ بی جے پی لیڈروں کے حالیہ بیانات کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کے مفاد میں ایسے بیانات کی کوئی جگہ نہیں۔ ترقی کا راستہ صرف اس وقت ہموار ہو سکتا ہے جب باہمی اعتماد، شراکت داری اور اجتماعی ذمہ داری کو مضبوط کیا جائے، لیکن نفرت اور انتشار کا ماحول سرمایہ کاری، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سب کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

ایم این ایس کی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ مرعوبیت، دھونس، زبان کے نام پر خوف پیدا کرنا اور مختلف برادریوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا ممبئی کے اجتماعی تانے بانے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ مراٹھی زبان اور تہذیب کا احترام کیا جائے، لیکن یہ احترام کبھی بھی دوسروں کے خلاف نفرت، تشدد یا امتیاز کے نام پر قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ایم این ایس کے طرزِ سیاست کو ممبئی کے کثیرالثقافتی مزاج کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے حقیقی مسائل جیسے ٹریفک جام، گڈھوں سے بھری سڑکیں، پینے کے پانی کی کمی، کچرے کا بحران، بارشوں میں سیلاب، فٹ پاتھ پر ہاکروں کی بےقاعدہ پالیسیاں، خواتین کے لیے ناکافی سہولیات، سرکاری اسپتالوں کی خستہ حالی، بی ایم سی اسکولوں کی معیارِ تعلیم، بڑھتی آلودگی، گھروں کی ناقابلِ برداشت قیمتیں اور ٹھیکیدار بیوروکریسی گٹھ جوڑیہ سب ایسے مسائل ہیں جن سے عام شہری روزانہ دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن مذہبی اور لسانی سیاست کرنے والے عناصر ان میں سے کسی مسئلے سے حقیقی دلچسپی نہیں رکھتے۔

سچن ساونت نے واضح کیا کہ کانگریس آزادانہ طور پر اس لیے میدان میں اتر رہی ہے تاکہ ممبئی کو شفاف، مساوات پر مبنی، جدید شہری منصوبہ بندی سے آراستہ، ماحول دوست اور انسانی قدروں پر قائم ایک مضبوط شہری حکومت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے وسائل، زمین اور حقوق کچھ مخصوص طاقتور طبقات کے ہاتھوں بیچے جا رہے ہیں اور اس رجحان کو روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی ہمیشہ رواداری کے ساتھ ہونی چاہیے اور یہی وہ وعدہ ہے جس کے ساتھ کانگریس ممبئی کے عوام کے درمیان جا رہی ہے۔

MRCC Urdu News 17 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading