گھر حق پریشد کا اعلان: کفایتی گھروں کے لیے اب سڑک پر جدوجہد
ناگپور سرائی اجلاس کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاجی مارچ نکالا جائے گا: وشواس اُتگی
کفایتی گھروں کے لیے 31 تنظیموں کی مشترکہ مہم، بند ملوں اور فیکٹریوں کی پوری زمین پر کفایتی مکانات بناکر دیئے جائیں
ممبئی: گھر حق پریشد کی قیادت میں کل 31 تنظیمیں متحد ہو کر ممبئی کے اصل باشندوں کے لیے سستے اور حق کے گھروں کی فراہمی کے سوال پر متحدہ طور پر جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان تنظیموں کا واضح مؤقف ہے کہ بنیادی حق کے تحت ملنے والا گھر ممبئی ہی میں دیا جانا چاہیے اور شہریوں کو شیلو یا وانگنی جیسے ممبئی سے دور علاقوں میں ڈھکیلنے کی کوئی بھی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔ بند پڑی ملوں اور کارخانوں کی محض 33 فیصد زمین نہیں، بلکہ پوری زمین پر گھر تعمیر کیے جائیں۔ اس اجتماعی مطالبے کے ساتھ تمام تنظیموں نے مشترکہ تحریک کا اعلان کیا ہے۔ وشواس اُتگی نے بتایا کہ ناگپور سرمائی اجلاس کے دوران ایک عظیم الشان مارچ نکال کر حکومت کو اس غفلت سے بیدار کیا جائے گا۔
گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کے صدر وشواس اُتگی نے کہا کہ حکومت عام شہریوں کے لیے زمین دینے سے گھبراتی ہے، مگر صنعت کاروں کو زمینیں بانٹنے میں غیر معمولی فیاضی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ کرائے پر رہنے والے، پگڑی نظام کے مکین، جھوپڑ پٹیوں میں بسنے والے اور پرانی عمارتوں کے رہائشی سب کے سب حق کے گھر کے انتظار میں ہیں، مگر حکومت ان کے مسائل کے حل سے مسلسل پہلوتہی کر رہی ہے۔ زمینیں بلڈروں کے حوالے کی جا رہی ہیں اور ممبئی کے اصل باشندوں کو شہر سے باہر ڈھکیلا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 1 لاکھ 10 ہزار مل مزدوروں کے لیے گھر فراہم کرنے کی خاطر رجسٹریشن کیا گیا تھا، لیکن گزشتہ 25 برس میں محض 15 ہزار گھر ہی مکمل ہو سکے۔ اتنے برسوں میں لاکھوں مزدوروں کو اُن کا گھر کیوں نہیں ملا؟ ممبئی کے علاوہ دھولیہ، شولاپور، اچل کرنجی، ناگپور سمیت کئی شہروں میں بند پڑی این ٹی سی ملوں کے مزدور کب انصاف پائیں گے،یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔
ریاستی حکومت نے 1 اگست 2019 کے جی آر کے ذریعے شیلو اور وانگنی میں گھر دینے کا اعلان کیا تھا۔ اسی جی آر کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے سمیت کئی وزراء کو یادداشت بھی پیش کی جا چکی ہے۔ تاہم آج تک کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ وشواس اُتگی نے کہا کہ حکومت کی موجودہ ہاؤسنگ پالیسی ممبئی کے اصل باشندوں کو سستے اور حق کے گھروں سے محروم کرنے کی پالیسی بن چکی ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں بھی زیرِ سماعت رہا ہے اور فیصلہ بنیادی طور پر مقامی شہریوں کے حق میں آیا ہے، مگر حکومت عملاً اس فیصلے پر عمل کرنے سے انکاری ہے۔ اسی لاپرواہی کے سبب ایک بھرپور اور سخت احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 23 نومبر کو پہلا عوامی اجلاس دہیسر مشرق کے شیلیندر ودیالیہ میں منعقد کیا جائے گا جبکہ دوسرا اجلاس کانجورمارگ/بھانڈوپ کی بستیوں میں ہوگا اور اس کے بعد تھانے، پنویل سمیت دیگر علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ تمام سیاسی پارٹیوں سے تعاون لیا جائے گا اور وزیراعلیٰ کے علاوہ دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کو بھی تفصیلی یادداشت پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر دھرم راجیہ پارٹی کے راجن راجے، ششیر دھولے، دتاتریہ اٹیالکر، آشیش مشرا سمیت دیگر نمائندگان بھی موجود تھے۔
MPCC Urdu News 17 November 25.docx