MRCC Urdu News 17 Dec. 25

نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ممبئی کانگریس کا ای ڈی دفتر پر زبردست مورچہ، بی جے پی کی آمریت کے خلاف شدید نعرے بازی

کانگریس قیادت کو بلا وجہ ہراساں کرنے کی بی جے پی حکومت کی سازش کا کانگریس مؤثر جواب دے گی، ای ڈی کی کارروائی مودی حکومت کے اشارے پر: پارلیمنٹ ورشا گایکواڑ

نیشنل ہیرالڈ معاملے میں سونیا و راہل گاندھی کو بدنام کرنے پر نریندر مودی معافی مانگیں

ممبئی: نیشنل ہیرالڈ معاملے میں عدالت کے فیصلے کے بعد کانگریس پارٹی نے جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ای ڈی دفتر پر زبردست احتجاجی مورچہ نکالا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ای ڈی نریندر مودی حکومت کے اشارے پر کام کر رہی ہے اور سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو تفتیش کے نام پر بلا وجہ ہراساں کیا گیا۔ بدعنوانی کے جھوٹے الزامات لگا کر کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت کو دانستہ بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی حکومت نے سیاسی انتقام کے جذبے کے تحت کانگریس قیادت کو پھنسانے کی سازش کی، لیکن اب عدالت کا فیصلہ آ چکا ہے، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی سونیا اور راہل گاندھی سے عوامی طور پر معافی مانگیں۔

یہ احتجاجی مورچہ ممبئی کانگریس کی صدر اور رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ کی قیادت میں نکالا گیا۔ اس مورچے میں رکن اسمبلی و سابق وزیر اسلم شیخ، ڈاکٹر جیوتی گائیکواڑ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور تلنگانہ کے شریک انچارج سچن ساونت، ترجمان سریش چندر راج ہنس، ضلع صدر روی کانت باوکر، کچرو یادو، کیتن شاہ، بھاونا جین، ارشد اعظمی، راجپتی یادو، تیولپ مرانڈا، سبھاش بھالیراؤ، فرحان اعظمی، اکھلیش یادو، راجیش شرما سمیت سینکڑوں کانگریس کارکنان شریک ہوئے۔ بی جے پی حکومت نے مورچے کو روکنے کے لیے پولیس کا بھاری بندوبست کیا تھا، اس کے باوجود کانگریس کارکنوں نے کسی دباؤ کی پروا کیے بغیر حکومت مخالف نعرے بازی جاری رکھی۔ پولیس نے تمام مظاہرین کو حراست میں لے لیا، بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تحریک میں اور آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے قربانیاں دی ہیں اور بے مثال ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ای ڈی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جھوٹے الزامات لگا کر کانگریس قیادت کو بدنام کرنا ایک سنگین گناہ ہے۔ اگر کانگریس قیادت کو بدنام کرنے کی کوشش جاری رکھی گئی تو کانگریس کا ہر کارکن سڑکوں پر اتر کر اس کا منہ توڑ جواب دے گا، یہ سخت انتباہ بھی انہوں نے دیا۔

ورشا گائیکواڑ نے مزید کہا کہ کھیلوں کے وزیر مانک راؤ کوکاٹے کو عدالت نے دو سال کی سزا برقرار رکھی ہے، اس کے باوجود ان کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی جا رہی۔ نہ تو انہیں وزارتی عہدے سے برطرف کیا گیا اور نہ ہی سکریٹریٹ کی جانب سے ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کی گئی۔ دوسری طرف راہل گاندھی کو جھوٹے معاملے میں سزا ہوتے ہی 24 گھنٹوں کے اندر ان کی رکن پارلیمنٹ کی حیثیت ختم کر دی گئی اور سرکاری رہائش گاہ بھی خالی کرا لی گئی۔ کانگریس کے رہنما سنیل کیدار کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا، لیکن مانیک راؤ کوکاٹے کو مہایوتی حکومت بچا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پونے کے 1800 کروڑ روپے کے زمین گھوٹالے میں نائب وزیر اعلیٰ اجیت پاور کے بیٹے پارتھ پوار کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ 99 فیصد شراکت داری ہونے کے باوجود پارتھ پوار کو بچایا گیا اور صرف افسران و دیگر افراد پر کارروائی کی گئی۔ نیشنل ہیرالڈ معاملے میں کسی قسم کا جرم ثابت نہ ہونے کے باوجود کانگریس رہنماؤں سونیا اور راہل گاندھی کو مسلسل تفتیش کے نام پر ہراساں کیا گیا اور گھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی۔ اقتدار میں بیٹھی بی جے پی حکومت مخالفین کو بلا وجہ نشانہ بناتی ہے اور اپنے لوگوں کو بچاتی ہے۔ کیا حکمراں جماعت کے لیے ایک انصاف اور اپوزیشن کے لیے دوسرا انصاف ہے؟ یہ تلخ سوال بھی رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے اٹھایا۔

MRCC Urdu News 17 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading