سودخوری کے ظلم نے کسان کو اپنی کڈنی بیچنے پر مجبور کر دیا
یہ ریاستی نظام کی ناکامی کا زندہ ثبوت ہے: جینت پاٹل
سانگلی: چندرپور ضلع کے ناگبھیڑ علاقے میں پیش آنے والا واقعہ مہاراشٹر جیسے ترقی یافتہ کہلانے والے صوبے کے لیے انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے، جہاں ایک کسان کو محض ایک لاکھ روپے کے قرض کے عوض 74 لاکھ روپے سود ادا کرنا پڑا۔ سودخور کے ظلم و جبر کی انتہا اس حد تک پہنچ گئی کہ متاثرہ کسان نے پہلے اپنی گاڑیاں بیچ دیں، پھر اپنی زرعی زمین فروخت کی، لیکن اس کے باوجود سودخوری کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ آخرکار حالات سے تنگ آ کر اس کسان کو اپنی جان بچانے اور قرض کے بوجھ سے نجات پانے کے لیے اپنی ہی کڈنی فروخت کرنی پڑی۔ اس واقعے کو ریاستی انتظامیہ کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے این سی پی- ایس پی کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ جب ایک کسان کو زندہ رہنے کے لیے اپنی کڈنی بیچنے پر مجبور ہونا پڑے، تو یہ سوال لازمی طور پر اٹھتا ہے کہ حکومت کی سودخوری مخالف پالیسیاں کہاں چلی گئیں؟ کسانوں کے لیے کیے گئے قرض معافی کے وعدے کہاں گم ہو گئے؟ اور وہ تمام سرکاری اسکیمیں، جو کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، آخر کیوں صرف کاغذات تک محدود رہ جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب کوئی کسان خودکشی کرتا ہے تو حکومت تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیتی ہے، مگر جب ایک کسان زندہ ہے اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے تو کیا اسے سہارا دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی؟
انہوں نے مزید کہا کہ سودخوری کے خلاف سخت قوانین ہونے کے باوجود دیہی علاقوں میں سودخور بے لگام ہیں اور غریب کسانوں کا خون نچوڑ رہے ہیں۔ انتظامیہ کی خاموشی اور بے حسی نے ایسے عناصر کو مزید شہہ دی ہے۔ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہ کی اور کسانوں کو عملی تحفظ فراہم نہ کیا تو آنے والے وقت میں حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ جینت پاٹل نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو کسان تباہ ہو جائے گا اور اس کی ذمہ داری براہ راست حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری اور غیرجانبدارانہ جانچ کی جائے، سودخور کے خلاف سخت کارروائی ہو اور متاثرہ کسان کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ وہ محض اعلانات اور وعدوں تک محدود نہ رہے بلکہ زمینی سطح پر کسانوں کو سودخوری سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ آئندہ کسی اور کسان کو اپنی جان کے بدلے قرض چکانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
NCP-SP Urdu News 17 Dec. 25.docx