زمین، پیسہ اور صنعت ’گجراتی دوست‘ کو دینے کی سیاست بند ہونی چاہیے: پون کھیڑا
انتخابات آتے ہی بنگلہ دیشی درانداز یاد آتے ہیں، اگر واقعی موجود ہیں تو مودی–شاہ کیا کر رہے ہیں؟
: سچن ساونت
ممبئی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر پون کھیڑا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی مہایوتی ممبئی کی قیمتی زمین، صنعت اور عوامی دولت بڑے پیمانے پر ایک ’گجراتی دوست‘ کے حوالے کر رہی ہے، جو ممبئی اور ممبئی والوں کے مفادات کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو صاف طور پر بتانا ہوگا کہ آیا ممبئی ممبئی والوں کے لیے ہے یا کسی مخصوص صنعت کار کے لیے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ ممبئی کی زمینیں بیچ کر بی جے پی–شندے گروپ نے بے تحاشا دولت جمع کی ہے، مگر اب شہر میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور ممبئی کے عوام اس بدعنوان مہایوتی کو انتخابات میں سبق سکھائیں گے۔
راجیو گاندھی بھون ممبئی میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی مہایوتی نے ممبئی میونسپل کارپوریشن میں بدعنوانی کے ذریعے ممبئی والوں کے پیسے لوٹے ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہریوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ سڑکیں گڑھوں سے بھری ہیں، پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، جبکہ معمولی بارش میں گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں آلودگی کی سطح دہلی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، اس کے باوجود بی ای ایس ٹی بس سروس، سرکاری اسکولوں اور میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں کو نجی ہاتھوں میں دینے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ ترقی کے لیے تمام پارٹیوں کے منتخب نمائندوں کو فنڈز ملنے چاہئیں، مگر اپوزیشن کو دانستہ محروم رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ رقم کسی ایک لیڈر کی نہیں بلکہ عوام کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بلدیاتی انتخابات چار سال تک کیوں ٹالے گئے، اس کا جواب عوام کو ملنا چاہیے۔
بنگلہ دیشی دراندازوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی کو بنگلہ دیشی درانداز یاد آ جاتے ہیں اور انتخابات ختم ہوتے ہی یہ مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اب مغربی بنگال میں انتخابات ہیں تو وہی بیانیہ دوبارہ دہرایا جا رہا ہے۔ اگر واقعی ملک میں غیر قانونی بنگلہ دیشی موجود ہیں تو پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں مودی اور شاہ کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے جواب دینا چاہیے۔
اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اُدت راج نے کہا کہ ممبئی میں کانگریس اور ونچت بہوجن آگھاڑی مل کر انتخابات لڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نظریات کو ماننے والوں کو اس اتحاد کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ڈاکٹر امبیڈکر کے آئین کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اسے بچانے کی جدوجہد کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کر رہے ہیں۔ بی جے پی ہندو–مسلم تنازع کھڑا کر کے ووٹ مانگ رہی ہے، مگر عوام اس پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔
ممبئی کانگریس کے چیف ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ بی جے پی لیڈر انّاملائی کے ممبئی سے متعلق بیانات مہاراشٹر مخالف ہیں، جس کی کانگریس مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بی جے پی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس ان بیانات سے متفق نہیں تو انہیں فوراً اس کی تردید کرنی چاہیے۔ سچن ساونت نے کہا کہ اگر انّاملائی کو دھمکیاں مل رہی ہیں تو یہ بی جے پی حکومت کی ناکامی ہے، جو اپنے ہی لیڈروں کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی۔ انتخابی عمل پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ بن کر رہ گیا ہے، جو بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔ نقد رقم پکڑے جانے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوتی۔ ’لاڈکی بہن‘ اسکیم پر بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ یہ منصوبہ بہنوں کی مدد کے جذبے سے نہیں بلکہ کھلے طور پر ووٹ کے سودے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ووٹوں کے لیے دو مہینے تک اس اسکیم کی رقم روک کر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامی پیسہ ہے، نہ کہ دیویندر فڈنویس یا ایکناتھ شندے کی جیب کا اور عوام اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔