بی جے پی کے بلڈوزر سے مرعوب ہوئے بغیر کانگریس کارکن ڈٹ کر کھڑے رہے

میونسپل کونسل کی طرح میونسپل کارپوریشن میں بھی کانگریس کا پرچم لہرائے گا: ہرش وردھن سپکال

سولاپور/ممبئی: مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے دوران اقتدار میں موجود پارٹیوں نے پیسہ، پولیس، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے سہارے جمہوری اقدار کو روند ڈالا ہے، مگر اس کے باوجود کانگریس کارکن بی جے پی کے بلڈوزر سیاست سے خوفزدہ ہوئے بغیر پوری ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے۔ اسی جرأت اور عوامی حمایت کا نتیجہ ہے کہ میونسپل کونسل انتخابات میں کانگریس کے 41 کونسل کے چیئرمین اور 1006 کونسلر کامیاب ہوئے۔ میونسپل کونسل کے بعد اب میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بھی کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔ اس یقین کا اظہار مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔

میونسپل کارپوریشن انتخابات کے سلسلے میں سولاپور کے دورے پر آئے ہرش وردھن سپکال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے انتخابات کے دوران ریاست میں تین قتل ہو چکے ہیں، جو اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاست کی خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کویتا گینگ، ورلی مٹکا اور منشیات مافیا سے جڑے عناصر کو امیدوار بنا رہی ہے۔ تلجاپور میں بی جے پی نے منشیات مافیا سے وابستہ شخص کو صدرِ بلدیہ کے عہدے کا امیدوار بنایا، جبکہ بعض مقامات پر نہ صرف مجرموں بلکہ عصمت دری کے ملزموں کو بھی تحفظ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کونسل اور کارپوریشن انتخابات شہری مسائل جیسے پانی، صفائی، سڑکیں اور ٹرانسپورٹ پر ہونے چاہئیں تھے، مگر اقتدار میں موجود پارٹیاں زبان، علاقائیت اور میئر کی شناخت جیسے موضوعات اچھال کر عوام کی توجہ بھٹکا رہی ہیں۔

ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ کئی جگہوں پر زبردستی بلا مقابلہ انتخابات کروائے جا رہے ہیں، جو جمہوریت کے منافی ہیں۔ جہاں بلا مقابلہ انتخاب ہو رہا ہے، وہاں نوٹا کا اختیار دیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری حق برقرار رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اقتدار بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا رہا ہے۔ اڈانی معاملے پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور راہل گاندھی نے جس خطرے کی طرف ملک کو متنبہ کیا ہے، وہ بالکل درست ہے۔ کانگریس سرمایہ کاری یا صنعت کے خلاف نہیں، لیکن مودی حکومت جس طرح ملک کے ہر شعبے میں اڈانی کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے، وہ قومی مفاد کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی جو بات کہہ رہے ہیں، وہی بات حال ہی میں شیواجی پارک میں راج ٹھاکرے نے بھی کہی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی اڈانی کے مفادات کے لیے پوری طاقت سے کام کر رہی ہے۔ سپکال نے کہا کہ اگر مرکز میں کانگریس اقتدار میں آئی تو جیسے برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنے ماتحت کیا تھا، اسی طرز پر اڈانی اور امبانی جیسے بڑے صنعتی گروپس کے کاروبار کو سخت سرکاری ضابطوں کے تحت لایا جائے گا۔

اتحاد کے سوال پر ہرش وردھن سپکال نے واضح کیا کہ ممبئی، لاتور اور ناندیڑ میں کانگریس کا ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ اتحاد محض انتخابی نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی پر مبنی ہے اور اسے مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی پارٹیوں کو غیر ضروری اور متنازع بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ رکنِ پارلیمنٹ پرنیتی شندے کانگریس پارٹی میں ہیں اور کانگریس پارٹی میں ہی رہیں گی، اس حوالے سے کسی قسم کی قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس موقع پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن اور رکنِ پارلیمنٹ پرنیتی شندے سمیت کانگریس کے متعدد سینئر عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔

MPCC Urdu News 12 January 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading