MPCC Urdu News1. 25 January 25

کیا اسمبلی انتخابات میں ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد مرکزی حکومت بنگلہ دیش سے لائی تھی؟: نانا پٹولے

بی جے پی حکومت کے دور میں لوگوں کی حق رائے دہی بھی محفوظ نہیں، کانگریس کا ووٹر لسٹ میں بدعنوانی کے خلاف سخت احتجاج

ممبئی: بی جے پی حکومت کے دوران لوگوں کی حق رائے دہی بھی محفوظ نہیں رہی۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں بڑی بدعنوانی کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر اسمبلی کے لیے ووٹرس کی تعداد ۹.۷۰ کروڑ بتائی ہے، جبکہ مودی حکومت کے صحت کے محکمے نے مہاراشٹر میں بالغ ووٹروں کی تعداد ۹.۵۴ کروڑ بتائی ہے، تو الیکشن کمیشن نے یہ اضافی ووٹرس کہاں سے آئے؟ انتخابی دن شام کو جو ووٹنگ ۵۸ فیصد بتائی گئی تھی، وہ اگلے دن ۶۶.۵ فیصد کیسے ہو گئی؟ حکومت کا کہنا ہے کہ ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کا فائدہ بنگلہ دیشیوں نے اٹھایا ہے، تو کیا اسمبلی انتخابات میں بڑھے ہوئے ووٹرس بی جے پی حکومت نے بنگلہ دیش سے لائی تھی؟ یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نےکیا ہے۔

جمہوری اقدار اور ووٹرس کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس پارٹی نے قومی ووٹرس دن کی مناسبت سے ریاست بھر میں تحریک چلائی اور پریس کانفرنسز کیں۔ ناگپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ جب ووٹوں کی گنتی کے دوران ایک دو ووٹرس بڑھتے ہیں تو انتخابات منسوخ ہو جاتے ہیں، لیکن اسمبلی کے لیے ۶۰ لاکھ ووٹر بڑھ گئے اور الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔ رات کے اندھیرے میں ۷۶ لاکھ ووٹ کیسے بڑھ گئے، اس کا جواب ابھی تک الیکشن کمیشن نہیں دیا ہے۔ لیکن اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے الیکشن کمیشن کی وکالت کرتے ہوئے اس پر وضاحت دینے کی کوشش کی۔ نانا پٹولے نے فڑنویس سے سوال کیا کہ کیا وہ اس اسکرپٹ کو نریندر مودی، امت شاہ، یا الیکشن کمیشن نے دیا تھا؟

۲۰۱۹ سے ۲۰۲۴ تک پانچ سالوں میں ریاست میں ۵۰ لاکھ ووٹرس بڑھے اور ۲۰۲۴ کی لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں چھ مہینوں میں ۴۶ لاکھ ووٹر بڑھ گئے، اتنی بڑی تعداد میں ووٹر کیسے بڑھے، اس کا جواب الیکشن کمیشن نہیں دے رہا، اور اب تو الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ سے سارا ڈیٹا ہی ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ بی جے پی الیکشن کمیشن کے ذریعے دن دہاڑے جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ کانگریس پارٹی جمہوریت کے تحفظ اور الیکشن کمیشن کی بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر اور عدالت میں لڑائی لڑ رہی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے، سابق وزیر ڈاکٹر نتن راؤت، ناگپور شہر کانگریس کمیٹی کے صدر ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے اور دیگر موجود تھے۔ قومی ووٹرس دن کے موقع پر جمہوریت اور ووٹرس کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس پارٹی نے ریاست بھر میں تحریک چلائی اور پریس کانفرنسز کیں۔ ناگپور میں ریاستی صدر نانا پٹولے نے پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن پر حملہ کیا۔ ممبئی میں پروفیشنل کانگریس کے پروین چکرورتی اور سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے پریس کانفرنس کی۔ یوتھ ونگ کے تحت یوتھ کانگریس نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور میمورنڈم دیئے۔

تھانے میں کانگریس کا الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی کارگزار صدر نسیم خان کی الیکشن کمیشن پر سخت تنقید

تھانے: حال ہی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں انتخابی کمیشن کے غیرقانونی اقدامات اور ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھانے شہر ضلع کانگریس نے ایک شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کا مقصد جمہوریت تحفظ اور انتخابی عمل میں شفافیت کی حمایت کرنا تھا۔ یہ احتجاج قومی ووٹرس ڈے کے موقع پر تھانے شہر کانگریس کے صدر ایڈوکیٹ وکرم چوہان کی قیادت میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر ریاستی صدر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن محمد عارف نسیم خان خصوصی طور پر شریک ہوئے اور مظاہرے کی قیادت کی۔

اس احتجاج کے بعد نسیم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 2024 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ریاستی سیاست میں بے چینی اور شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ انتخابات کے نتائج کو حیرت انگیز، ناقابلِ یقین اور غیر معمولی قرار دیا گیا، جو کہ انتخابی عمل میں گڑبڑی کے امکان کو ظاہر کرتے ہیں۔ چھ ماہ قبل لوک سبھا انتخابات میں حکمراں پارٹی بی جے پی کی شکست اور مہاوکاس اگھاڑی کی فتح کے بعد ایسا منظرنامہ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود چھ ماہ کے اندر اندر سیاسی منظرنامہ یکسر تبدیل کر دیا۔ ووٹر لسٹ میں ہونے والی بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے بارے میں شکایات کے باوجود الیکشن کمیشن نے ان پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسی طرح اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح میں بھی واضح تضاد نظر آیا۔ 5 بجے شام تک جو شرح ووٹنگ بتائی گئی تھی اور اس کے بعد اگلے دن صبح میں جو شرح بتائی گئی ان میں بڑا فرق تھا۔ اس کے علاوہ 76 لاکھ اضافی ووٹوں کا ریکارڈ دکھایا گیا، جو کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

نسیم خان نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام ووٹنگ مراکز پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ کی مدد سے ووٹنگ میں اضافے کا ثبوت فراہم کرے مگر الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کرلی۔ قومی ووٹر ڈے کے موقع پر کانگریس پارٹی نے انتخابی کمیشن کے جانبدارانہ رویے کا پردہ فاش کیا ہے اور اس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ کانگریس نے اس بات کی بھی درخواست کی کہ انتخابی کمیشن جمہوریت کے تحفظ اور ووٹرز کے احترام کو یقینی بنائے، تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے۔

نسیم خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کو غیر جانبدار اور شفاف طریقے سے منعقد کرے۔ یہ آئینی ادارہ خود مختار ہے لیکن مودی حکومت نے تمام آئینی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ نسیم خان نے موجودہ الیکشن کمشنر راجیوت کمار پر بی جے پی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات شفاف نہیں تھے اور اس میں گڑبڑ کی گئی ہے۔ اس مظاہرے میں ریاستی جنرل سیکرٹری اور تھانے ضلع انچارج راجیش شرما، ہندوراؤ گلوے، راہل پنگلے، بلاک صدور، خواتین کانگریس کی عہدیداران، یوتھ کانگریس کے عہدیداران، تمام وارڈوں کے صدور اور کانگریس کے دیگر کارکنان نے شرکت کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading