ووٹنگ جمہوریت کا تہوار، زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جانا چاہئے
ممبئی سے ووٹنگ کے لیے کیرالا جانے والے شہریوں کی بس کو کانگریس ریاستی صدر نے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا
ممبئی: ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کیرالا میں 9 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے لیے ممبئی میں مقیم کیرالا کے شہری بڑی تعداد میں اپنے آبائی ریاست روانہ ہوئے۔ اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ممبئی سے کیرالا جانے والی بس کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور ووٹروں کو نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی امین پٹیل اور کانگریس کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر کہا کہ انتخابات جمہوریت کا ایک اہم تہوار ہیں اور اسے مضبوط بنانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم کیرالا کے شہریوں کا اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے اپنے ریاست واپس جانا ایک مثبت اور قابلِ ستائش عمل ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ بعض افراد ووٹنگ کے دن کو تعطیل سمجھ کر سیاحت یا دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اپنے ووٹ کے حق سے محروم رہتے ہیں، جبکہ کیرالا کے شہری جہاں بھی ہوں، انتخابات کے وقت اپنے ریاست جا کر ووٹ دینا ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب انتخابی عمل پر پیسے کے اثر و رسوخ اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے رہتے ہیں، ایسے میں ووٹنگ کے لیے سنجیدگی سے قدم اٹھانا ایک خوش آئند رجحان ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ 100 فیصد ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیجی ممالک میں جاری تنازعات کے باعث کئی کیرالا کے شہری بیرونِ ملک پھنسے ہوئے ہیں اور وہ اس انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے پا رہے، جس پر انہیں افسوس ہے۔ بارامتی ضمنی انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی تنازع نہیں ہے اور اگر کوئی جمہوری طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
بلا مقابلہ انتخاب کی بات عوامی جذبات کے برخلاف: ہرش وردھن سپکال
بارامتی ضمنی انتخاب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے بیان پر کانگریس کا سخت ردعمل
ممبئی: بارامتی اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے حالیہ بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان کہ بارامتی کا ضمنی انتخاب بلا مقابلہ ہونا چاہئے، نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ یہ بیان اور یہ طرزِ عمل سیاسی منافقت کی عکاسی کرتا ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ جس ’عوامی جذبات‘ کی بات کی جا رہی ہے، درحقیقت اسی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارامتی میں اجیت پوار کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ طیارہ حادثے کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات موجود ہیں اور اس معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہی اصل عوامی مطالبہ ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ واقعہ واقعی ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما تھی؟ اس حقیقت کو سامنے لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہیے تھا، لیکن وزیر اعلیٰ نے اس معاملے کو نظر انداز کیا، جس سے شکوک مزید بڑھ گئے ہیں۔
ہرش وردھن سپکال نے زور دے کر کہا کہ اجیت پوار حادثہ کیس میں باقاعدہ مقدمہ درج کر کے غیرجانبدارانہ جانچ کرانا ہی دراصل عوامی جذبات کی حقیقی ترجمانی ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق کو عوام کے سامنے لائے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔
MPCC Urdu News 7 April 26.docx