MPCC Urdu News 5 May 25

بی جے پی اور آر ایس ایس ذات-مذہب کے نام پر زہر پھیلا کر سماج میں نفرت گھول رہے ہیں: رمیش چنّیتھلا

ذات پر مبنی مردم شماری سے مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل ہوگا: ہَرش وردھن سپکال

’سدبھاؤنا‘ یاترا کے ذریعے بکھرے دلوں کو جوڑنے کا عمل: وجے وڈیٹی وار

پر بھنی میں کانگریس کی ‘آئین بچاؤ یاترا’ کو زبردست عوامی تعاون اور حمایت

پر بھنی: سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے ملک میں سب سے پہلے سدبھاؤنا یاترا شروع کی تھی۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہَرش وردھن سپکال نے مہاراشٹر میں سدبھاؤنا یاترا کا آغاز کیا۔ کانگریس یہ یاترا اس لیے نکال رہی ہے تاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے ذات پات اور مذہب کے نام پر پھیلائے گئے زہر کے مقابلے میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ بات مہاراشٹر کانگریس کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے پر بھنی میں کہی۔

رمیش چنّیتھلا کی موجودگی اور ہَرش وردھن سپکال کی قیادت میں پر بھنی شہر کے کانگریس دفتر سے ‘آئین بچاؤ یاترا’ کا آغاز ہوا، جو اکشتا منگل کاریالیہ میں ایک آئینی اجلاس پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر اسمبلی میں کانگریس پارٹی کے لیڈر وجے وڈیٹی وار، ریاستی نائب صدر نسیم خان، ارکانِ پارلیمان چندرکانت ہنڈورے، پرنیتی شندے، اے آئی سی سی کے سیکریٹری کنال چودھری، ڈاکٹر کلیان کالے، موہن جوشی، ایم ایل اے امیت جھنک، کیلاش گورنتیال، تکرام رینگے پاٹل، ویلاس اوتاڑے، وجاہت مرزا، بھانو داس مالی، سوریش ورپوڈکر، ندیم انعامدار اور دیگر قائدین و کارکنان شریک تھے۔

ریاستی کانگریس کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے کہا کہ سومناتھ سوریہ ونشی اور وجے واکوڈے کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف راہُل گاندھی نے آواز اٹھائی، لیکن تین ماہ بعد بھی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ راہُل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کیا، جس سے محروم طبقات کو فائدہ ہوگا۔ پہلے بی جے پی اور مودی نے مخالفت کی، مگر آخرکار حکومت کو مردم شماری کا فیصلہ لینا پڑا، لیکن یہ کب ہوگی، یہ واضح نہیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری سے مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ فی الحال او بی سی کو 27 فیصد ریزرویشن حاصل ہے، جسے 65 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ذاتوں میں تفرقہ ڈال رہی ہے۔ کسان خودکشیاں اور نوجوانوں کی بے روزگاری بڑھ رہی ہے، اور حکومت صرف سرمایہ داروں کی حمایت کر رہی ہے۔

اسمبلی میں حزب اختلاف لیڈر وجے وڈیٹی وار نے کہا کہ سدبھاؤنا یاترا کے ذریعے بکھرے دلوں کو جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی ذات پرستی اور فرقہ پرستی کا زہر پھیلا رہی ہے۔ اب وہ کانگریس کو توڑنے کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘جب ہماری باری آئے گی تو ہم بھی جواب دیں گے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی کارگزار صدر نسیم خان نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سماجی تفریق پیدا کر کے سماج کو توڑنے کا کام کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس جوڑنے کا۔ راہُل گاندھی نے ملک بھر میں یاترا نکال کر جمہوریت کی حفاظت کی۔ پولیس حراست میں ہلاکتوں پر حکومت بے حس ہے۔

رکن پارلیمنٹ چندرکانت ہنڈورے نے کہا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی آئین بدل کر منوواد لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے واکوڈے کی یادگار نہ بنائی تو وہ ایم پی فنڈ سے بنائیں گے۔ رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے نے کہا کہ پلوامہ حملے کے وقت راہُل گاندھی متاثرین سے ملنے گئے، مگر وزیراعظم انتخابی ریلیوں میں مصروف تھے۔ بی جے پی کانگریس کو کمزور کرنا چاہتی ہے، مگر خود مہا یوَتی میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ پروگرام کی نظامت موہن جوشی نے کی اور شکریہ ندیم انعامدار نے ادا کیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading