بی جے پی کی بنیادی نظریات ہی چھترپتی شیواجی مہاراج اور سنبھاجی مہاراج کی مسلسل توہین پر مبنی ہے
سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر ریاست کے چیف سیکریٹری کے سنگین الزامات، حکومت عوام کو جواب دے
برسرِ اقتدار بی جے پی کے ہی اراکین نے ایوان میں ہنگامہ کیا، اکثریت کے زور پر ہنگامہ برپا کرنے والی ’ہنگامہ پسند حکومت‘
ممبئی: بی جے پی کی بنیادی سوچ ہی یہ رہی ہے کہ وہ مسلسل چھترپتی شیواجی مہاراج اور سنبھاجی مہاراج کی توہین کرتی رہے۔ یہ سلسلہ ماضی سے لے کر آج تک جاری ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو اعظمی پر کارروائی کی جاتی ہے تو پھر چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والے پرشانت کورٹکر اور راہول سولاپورکر پر حکومت کارروائی کیوں نہیں کرتی؟ وزیر اعلیٰ چھترپتی کی توہین کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت دکھائیں۔ یہ چیلنج کانگریس کے سینئر لیڈر نانا پٹولے نے دی ہے۔
احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حکومت آئین کو نہیں مانتی، بلکہ مذہب کی بنیاد پر فیصلے لے کر کارروائیاں کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج ایوان میں تاریخ کے بعض واقعات کا ذکر کیا، لیکن جو کچھ آج ہو رہا ہے اس پر وہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جیسے ہی چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مسئلہ اٹھایا گیا، برسرِ اقتدار بی جے پی کے ارکان ویل میں آکر ہنگامہ کرنے لگے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے ارکان اسمبلی چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کو احسن طریقے سے چلائے، لیکن یہ تو ہنگامہ برپا کرنے والی ’ہنگامہ پسند حکومت‘ بن چکی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نانا پٹولے نے کہا کہ ایوت محل ضلع میں خواتین کے ایک پروگرام میں جو بدعنوانی ہوئی، اس کے اصل ذمہ دار اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ شہری ترقی کے وزیر و نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے ہی ہیں، اس حقیقت کو ریاست کی چیف سیکریٹری سجاتا سونک نے اپنے حلف نامے میں پیش کیا ہے۔ مہاراشٹر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی سابق وزیر اعلیٰ کے خلاف چیف سیکریٹری نے حلف نامہ داخل کیا ہو۔ ہم یہ مسئلہ اسمبلی میں اٹھائیں گے اور حکومت کو اس پر جواب دینا ہوگا۔
وزیر زراعت مانک راؤ کوکاٹے کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی کے معاملے میں بی جے پی حکومت نے انتہائی تیزی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے ان کی لوک سبھا رکنیت ختم کی اور فوراً ہی انہیں سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا۔ راہل گاندھی کے لیے ایک قانون اور مانک راؤ کوکاٹے کے لیے دوسرا قانون، بی جے پی کا یہ دوہرا معیار دو منھ والے سانپ کی مانند ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آج سزا پر روک لگا دی گئی ہے تو پھر جس دن سزا سنائی گئی تھی، اسی دن کوکاٹے کا استعفیٰ لے کر ان کی رکنیت ختم کیوں نہیں کی گئی؟