ریاست کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ دہلی کے اسیر، ان کا ایک پاوں ہمیشہ دہلی میں رہتا ہے: نانا پٹولے
۶۔۶ اضلاع کے ایک سرپرست وزیر، انتظامیہ ٹھپ، کام نہ ہونے سے عوام مشکلات کا شکار
ممبئی:ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس دہلی کے اسیر ہو چکے ہیں۔ ان کا ایک پاوں ہمیشہ دہلی میں رہتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے ۔ دہلی کے سامنے ریاستی حکومت کے ہتھیار ڈالنے سے ریاست کی ترقی رک گئی ہے۔ شندے-فڈنویس پر یہ تنقید مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔
پیر کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اورنگ آباد میں ایک جلسے میں خود اعلان کیا تھا کہ وہ مودی-شاہ کے مریدہو گئے ہیں۔ اب یہ چرچا ہے کہ وہ کابینہ کی توسیع کے لیے دہلی گئے تھے، اس سے صاف ہے کہ وزیر اعلیٰ دہلی کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے۔ گورننس تو دور کی بات ہے، کئی محکموں میں سال بھر کوئی وزیر نہیں ہے۔چھ چھ محکموں کی ذمہ داری صرف ایک وزیر کے پاس ہے۔ اسی کے ساتھ ہی کئی کئی اضلاع کے نگراں وزیر بھی صرف ایک ہیں، جس کی وجہ سے ریاست کا نظم و نسق مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ وزراءکسی بھی محکمے کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر ہیں۔ انتظامیہ کی ہٹ دھرمی سے لوگ پریشان ہیں۔ لوگوں کے کام نہیں ہو رہے ہیں، لیکن شندے-فڈنویس حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ آج ریاست کے کئی حصوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ کسان مشکل میں ہیں۔ کسانوں کو ابھی تک غیر موسمی بارشوں اور ڑالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے لیے امداد نہیں مل سکی ہے۔ انہیں اپنی پیداوار سڑک پر پھینکنی پڑتی ہے۔ کسانوں کے گھروں میں کپاس ابھی تک پڑی ہے۔ لیکن شندے حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ریاست میں صرف بڑے بڑے اعلانات کیا جارہا ہے اور عوام کا پیسہ لوٹا جارہا ہے ۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست کے عوام شندے فڈنویس حکومت سے تنگ آچکے ہیں اور اگلے انتخابات کے بعد اسے اقتدار سے بے دخل کیے بغیر نہیں رہیں گے۔