MPCC Urdu News 3 July 25

کیا یہ دھاراوی کی بازآبادکاری ہے یا دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ کا سودا؟

2368 کروڑ روپے کے ’کچرا پروجیکٹ‘ سے کس کو فائدہ؟

نانا پٹولے کا ریاستی حکومت پر سخت حملہ

ممبئی، 3 جولائی 2025: مہاراشٹر پردیش کانگریس کے سابق صدر اور سینئر لیڈر نانا پٹولے نے دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے نام پر بی ایم سی اور ریاستی حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف ممبئی میونسپل کارپوریشن پر 2368 کروڑ روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے بلکہ یہ پورا منصوبہ ایک مخصوص صنعتکار کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پٹولے نے طنزیہ انداز میں سوال پوچھا کہ یہ دھاراوی کی بازآبادکاری ہے یا دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ کا سودا؟ اور 2368 کروڑ کا یہ ’کچرا پروجیکٹ‘ آخر کس کے فائدے کے لیے ہے؟

نانا پٹولے نے کہا کہ اکتوبر 2024 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ دھاراوی پروجیکٹ کے تحت جو شہری مکانات کے لیے نااہل قرار پائیں گے، انہیں ’رینٹل ہاؤسنگ‘ کے تحت منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اڈانی دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کو تقریباً 50,000 مکانات تعمیر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لیکن ان گھروں کے لیے زمین فراہم کرنے کے لیے دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ کو خالی کرانے کا جو منصوبہ منظور کیا گیا ہے، وہ خود میں بے شمار سوالات کھڑے کرتا ہے۔

پٹولے نے نشاندہی کی کہ دیونار کا یہ ڈمپنگ گراؤنڈ 1927 سے وجود میں ہے اور اس میں اس وقت 185 لاکھ میٹرک ٹن کچرا جمع ہے۔ اب اس کچرے کو صاف کرنے کی ذمہ داری ممبئی میونسپل کارپوریشن کو سونپی گئی ہے، جس پر 2368 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔ بی ایم سی نے روزانہ 23,000 میٹرک ٹن کچرا اٹھانے کی تیاری کر لی ہے اور اس مقصد کے لیے تین سال کی مدت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا ٹھیکہ جاری کیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے میں سب کچھ اڈانی گروپ کے لیے طے کیا جا رہا ہے۔ زمین مہیا کرنا بی ایم سی کی ذمہ داری، مکانات کی تعمیر اڈانی کرے گا اور سارا خرچ ممبئی کے شہریوں اور ریاست کے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے پورا کیا جائے گا۔ کیا واقعی یہ اسکیم عوامی فلاح کے لیے ہے یا کسی مخصوص صنعتکار کو نوازنے کا ذریعہ ہے؟ نانا پٹولے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کچرے کی صفائی کے اس منصوبے میں بڑی بولی لگ رہی ہے اور کچرے کے ’تقسیم‘ کو لے کر سیاسی مفادات کا بھی کھیل چل رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ابتدائی وعدے کے مطابق دھاراوی کے متاثرین کو سمندر کنارے آباد کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا، لیکن اب انہیں دیونار جیسے علاقے میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے وہ بھی ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے۔

پٹولے نے مزید سوال کیا کہ کہیں یہ سارا منصوبہ ’کچرے سے کمائی‘ کی اسکیم تو نہیں ہے؟ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ تبصرے کا حوالہ بھی دیا، جس میں ریاستی حکومت کے کام کاج میں 3000 کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ بدعنوانی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان جاری ’گینگ وار‘ اس بدانتظامی اور عوام دشمن پالیسی کا نتیجہ ہے۔ نانا پٹولے نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کابینہ کی اندرونی کشمکش اور منصوبے کی اصل نوعیت پر عوام کے سامنے وضاحت پیش کریں۔

MPCC Urdu News 3 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading