NCP-SP Urdu News 3 July 25

ممبئی میں غیرقانونی انٹیگریٹڈ کوچنگ کورسز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے

ایڈوکیٹ امول ماتیلے کی وزیر تعلیم سے تحریری مطالبہ

ممبئی، جمعرات 3 جولائی 2025: نیشنلسٹ یوتھ کانگریس (شردچندرا پوار گروپ) کے ممبئی صدر ایڈوکیٹ امول ماتیلے نے آج مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھوسے سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ممبئی شہر میں تیزی سے پھیلتے نجی کوچنگ اداروں کے غیر مجاز ’انٹیگریٹڈ کورسز‘ کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ تحریری طور پر پیش کیا۔

اس ملاقات کے دوران ایڈوکیٹ ماتیلے نے وزیر تعلیم کو متعدد سنگین نکات کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ممبئی کے کئی نجی کوچنگ ادارے مقامی کالجوں سے غیر اعلانیہ سازباز کرکے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے انٹیگریٹڈ کورسز چلا رہے ہیں۔ ان کورسز کے لیے طلبہ سے لاکھوں روپے فیس وصول کی جاتی ہے، جو مکمل طور پر کاروباری نوعیت کے اور قانوناً ناقابل قبول ہیں۔ ان کورسز کی وجہ سے طلبہ کالج کی رسمی تعلیم سے کٹ کر صرف کوچنگ کلاسز پر انحصار کرنے لگے ہیں۔ اکثر طلبہ کالج میں صرف کاغذی حاضری کے لیے رجسٹرڈ ہوتے ہیں جبکہ درحقیقت وہ کالج نہیں جاتے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کورسز کے تحت سائنس کے طلبہ کو عملی تجربات اور لیب کی تربیت بالکل نہیں دی جاتی، جو کہ تعلیمی معیار کے لحاظ سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، دن بھر جاری رہنے والی کلاسز اور تعلیمی دباؤ کی وجہ سے طلبہ اور والدین دونوں کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تمام کورسز بغیر کسی سرکاری منظوری کے چلائے جا رہے ہیں، جو پورے تعلیمی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

ایڈوکیٹ ماتیلے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ممبئی کے تمام انٹیگریٹڈ کوچنگ کورسز کی جامع جانچ اور تفتیش کی جائے، ان کالجوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے جو جعلی حاضریاں دکھا کر قانون کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے اسکولی تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کے تحت ایسے غیر منظور شدہ کورسز پر فوری پابندی عائد کرنے، طلبہ کے مفاد میں جامع پالیسی اور رہنما اصول وضع کرنے، اور اس پورے نظام کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی تجویز دی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ ماتیلے نے کہا کہ طلبہ کا مستقبل، تعلیم کا معیار اور والدین کا اعتماد، سب کچھ اس بے لگام کوچنگ انڈسٹری کے نرغے میں آ چکا ہے۔ تعلیم ایک سماجی ذمہ داری ہے، اسے منافع خوری اور جعلی نظام کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اسکولی تعلیم دادا بھوسے نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لینے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جلد ہی متعلقہ محکمے کو باضابطہ تحقیقات کے احکامات جاری کیے جائیں گے تاکہ اس مسئلے کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔

NCP-SP Urdu News 3 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading