مودی جی! آپ کی وجہ سے ہی سات سو کسانوں کی موت ہوئی:

مودی کا نام تاریخ میں بے حس، متکبر اور کسانوں کے قاتل کے طور پر درج ہوگا

ستیہ پال ملک نے سچ کہا کہ نریندر مودی مغرور اور ڈکٹیٹر ہیں

مہاراشٹر کے گورنر کو میگھالیہ کے گورنر سے سبق لینا چاہئے

ممبئی:میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور انہوں نے جو کہا ہے وہ سچ ہے۔ کسانوں کے بارے میں ایسا غیر حساس بیان ایک متکبر اور آمرانہ حکومت کا سربراہ ہی دے سکتا ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔انہوں نے میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک کے بیان کی حمایت کی ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ مودی جی آپ جو بھی کہیں، کسانوں کی تحریک کے دوران 700 کسان صرف آپ کی وجہ سے مرے ہیں۔ آپ کسانوں کے قاتل ہیں اور اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔پٹولے نے مزید کہا کہ میں سچ بولنے کی جرات کے لیے ستیہ پال ملک کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بی جے پی میں کسی میں بھی نریندر مودی سے سوال کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ مودی کی کابینہ کے ساتھی اور بی جے پی کے تمام رہنما مودی کے سامنے خاموشی سے سر جھکا رہے ہیں۔ تاہم ستیہ پال ملک نے جرات کے ساتھ سچ بولنے کی بڑی ہمت دکھائی ہے۔ اس سے قبل ملک نے کسانوں کی تحریک اور زرعی قوانین پر بھی سخت موقف اختیار کیا تھا۔

پٹولے نے کہا کہ شہید کسانوں کے بارے میں مودی کا بیان پریشان کن ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسا ظالم، بے رحم شخص ہمارے ملک کا وزیراعظم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس کسانوں پر افسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو سخت سردی اور بارش میں کسانوں کی جان نہ جاتی۔ کسانوں کو خالصتانی اور متشددکہہ کر ان کے راستے میں کیل نہیں ٹھونکتے۔نانا پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک سے سبق سیکھنا چاہئے۔ انہیں مرکزی حکومت اور بی جے پی کے اشارے پر کام کرنا بند کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کوشیاری سچائی کا ساتھ دیں اور آئین کے اصولوں کے مطابق کام کریں۔ پٹولے نے کہا کہ جب تاریخ آپ کے کام کا جائزہ لے تو آپ کو سوچنا چاہیے کہ آپ کو کس آئیڈیل کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

بی جے پی حکومت کا بہوجن سماج کے ریزرویشن پر ایک اورحملہ: اتل لونڈھے

پانچ ایکڑ سے زیادہ اراضی رکھنے والوں کو EWS زمرہ کے تحت ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملے گا

بی جے پی کا ریزرویشن مخالف چہرہ ایک بار پھر بے نقاب

ممبئی:بہوجن سماج نے مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار دیا، لیکن اب وہی بی جے پی حکومت بہوجن سماج کی جڑیں کھود رہی ہے۔ مراٹھا اور او بی سی ریزرویشن کے بعد بی جے پی حکومت نے اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کے ریزرویشن پر بھی ایک اور کاری ضرب لگائی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے نے مرکز کی مودی پر تنقید کرتے ہوئے یہ باتیں کہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہے جس کے تحت اس نے بہوجن سماج کو ریزرویشن سے محروم کردیا ہے۔ لونڈھے نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کا خفیہ منصوبہ سماج کے تمام طبقات کے ریزرویشن کو آہستہ آہستہ ختم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ای ڈبلیو ایس زمرہ کے ریزرویشن میں نقب لگا کر بی جے پی اپنا بہوجن مخالف چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ ای ڈبلیوایس کے زمرے سے متعلق سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے داخل کردہ حلف نامہ کے مطابق پانچ ایکڑ سے زیادہ زمین رکھنے والے اب ریزرویشن کے اہل نہیں ہوں گے۔ لونڈھے نے کہا کہ اس فیصلے سے مراٹھواڑہ اور ودربھ کے لوگ زیادہ متاثر ہوں گے، کیونکہ یہاں کے کئی خاندانوں کے پاس پانچ ایکڑ سے زیادہ کی اراضی ہے، لیکن خشک زمین اور کم آمدنی کی وجہ سے اس علاقے کے غریب کسانوں کوخودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اب ایسے غریب کسانوں و بہوجن خاندانوں کو ریزرویشن نہیں ملے گا۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا یہ اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سماج کے ہر طبقے کے ریزرویشن کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ واضح ہو گیا ہے کہ جو کام سیدھے ہاتھ سے نہیں ہو سکتا ہے اس کے لیے انگلی ٹیڑھی کی جارہی ہے۔لونڈھے نے کہا کہ ایک جانب مرکزی حکومت نے او بی سی ریزرویشن کے لیے درکار امپیریل ڈیٹا فراہم نہیں کیا ہے۔ اس لیے مہاراشٹر سمیت پورے ملک میں او بی سی کا سیاسی ریزرویشن مشکل میں ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹر میں پنچایتی انتخابات او بی سی ریزرویشن کے بغیر ہوئے۔ایساہی حال مدھیہ پردیش اور اڈیشہ کا بھی ہے۔ مرکزی حکومت نے 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن کو منظوری نہیں دی ہے اور اب EWS زمرہ کے ریزرویشن کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ مراٹھا برادری جو EWS سے ریزرویشن کے لیے اہل تھی اسے بھی یہ فائدہ نہیں ملے گا۔ لونڈھے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے اس منافقانہ چہرے کو پہچانیں اور ہوشیار رہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading