مرکزی حکومت کا این سی بی سے سمیروانکھیڈے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ مناسب

جب تک پورے معاملے کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکلتا جدوجہد جاری رہے گی: نواب ملک

اگر مودی ایسے بیانات دے رہے ہیں تو عوام مودی کو معاف نہیں کریں گے

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیروانکھیڈے کے تبادلے کی خبرردعمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہا ہے کہ سمیروانکھیڈے کو تبدیل کئے جانے کا مرکزی حکومت کا فیصلہ مناسب ہے لیکن جب تک اس پورے معاملے کا کوئی منطقی نتیجہ نہیں نکلتا ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

نواب ملک نے کہا کہ سمیروانکھیڈے این سی بی میں آنے کے بعد جعلسازی کرتے ہوئے بہت سے بے گناہ لوگوں کو غلط طریقے سے جیل میں ڈالا۔ ملازمت حاصل کرنے کے لیے جعلی سرٹیفکیٹ کا سہارا لیا۔کم عمری میں ہی شراب خانے کا لائسنس حاصل کیا۔ ہم نے یہ سب باتیں بے نقاب کیں۔ ان تمام معاملات کی تفتیش جاری ہے۔ اس کے علاوہ ہفتہ وصولی کے معاملے کی دو دو ایس آئی ٹی تفتیش کررہی ہیں۔ دہلی کی ویجلنس کمیٹی سے شکایت کی گئی ہے، ان کاجواب بھی آگیا ہے۔ابتدائی طور پر یہ واضح ہورہا ہے کہ وانکھیڈے نے سروس کوڈ کی خلاف ورزی کی ہے۔ نواب ملک نے واضح کیا کہ ان تمام معاملات کی پیروی کرکے انہیں کسی منطقی نتیجے پر پہونچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کل ہی میڈیا کے سامنے یہ باتیں کہی تھیں کہ سمیر وانکھیڈے کی توسیع کے لیے دہلی میں لابنگ کی جارہی ہے۔ اس کے بعد رات میں ہی وانکھیڈے کو تبدیل کر دیا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لابنگ کرنے والے شخص نے اپناقدم پیچھے کھینچ لیا ہے۔ اگر سمیروانکھیڈے کو توسیع دی گئی ہوتی تو تمام ثبوت وشواہد کے ساتھ اس معاملے کو بے نقاب کیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ آرین خان معاملے کی دونوں ایس آئی ٹی تفتیش کررہی ہیں۔ اگر اس معاملے میں کوئی دشواری آتی ہے تو اس کی بھی جواب طلبی کی جائے گی۔ پربھاکرسائل نے حلف نامہ کے ذریعے پوری معلومات دی ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ اس کی پوری تفتیش کرنے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ نواب ملک نے کہاکہ جاتے جاتے میرے خلاف کوئی نیا تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ ای میل کے ذریعے میرے خلاف پولیس سے شکایت کی گئی۔ اس معاملے کی تفتیش کی جائے اور اگر میرے خلاف کسی آفیسر نے کسی کو جھوٹی شکایت کرنے کے لئے کہا ہے تو ممبئی کے پولیس کمشنر کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کرونگا کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دریں اثناء نواب ملک میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک کے ذریعے کئے گئے انکشاف کو سنگین قراردیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں اورتینوں زرعی قوانین بروقت واپس نہ لئے جانے کی وجہ سے آندولن کے دوران کسانوں کی موت ہوئی ہے۔ کسانوں کا یہ احتجاج سال بھر تک جاری رہا۔ لکھیم پور کھیری میں مرکزی حکومت کے وزیرداخلہ برائے مملکت کے بیٹے نے کسانوں کو اپنی گاڑی سے کچل کر مارڈالاجس کی اب چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود اگر مودی کسانوں کے بارے میں اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں تو یہ کسی طور مناسب نہیں ہے۔اگر میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک کا انکشاف سچ ہے تو ملک کی عوام مودی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading