کسی ایم ایل اے کی نااہلی کا فیصلہ کرنے کا اختیار اسمبلی کے نائب صدر نرہری جھرول کے ہی پاس ہے
ایکناتھ شندے سمیت 16؍ لوگوں کی نااہلی کا معاملہ اہم ہے
ممبئی:گوکہ سپریم کورٹ کی خصوصی بنچ نے فیصلہ دیا ہے کہ شیو سینا پارٹی کے نشان کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا، لیکن اس سے شندے دھڑے کو زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ بنیادی طور پر ایکناتھ شندے سمیت 16 ایم ایل ایز کی اہلیت کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ ان پر نااہلی کی لٹکی ہوئی تلوار ہنوز لٹک رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کی موجودہ حکومت غیر آئینی ہے، اور جب تک ان کی اہلیت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا، انہیں کوئی آئینی فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔
ریاست کی سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ اگرچہ ایکناتھ شندے گروپ نے اسمبلی میں اعتماد کا امتحان پاس کر لیا ہے، لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایکناتھ شندے خود ہی نااہلی کے بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ پارٹی نشان کا فیصلہ گوکہ الیکشن کمیشن کرے گا، لیکن سپریم کورٹ کو اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ 29 جون سے پہلے کی صورتحال کیا تھی اور اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ اس وقت نرہری جھرول اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے،ان کے حکم پر عدالت نے مدت میں توسیع کردی تھی۔ جب عدالت نے مدت میں توسیع کی تو شندے گروپ نے حکومت بنا لی۔ اس وجہ سے بنیادی صورتحال کو دیکھتے ہوئے صرف ڈپٹی اسپیکر نرہری جھرول ہی 29 جون سے پہلے کی صورتحال کے مطابق نااہلی کا فیصلہ لے سکتے ہیں۔
اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ عدالت کا فیصلہ شندے گروپ کو راحت دینے والاہے۔ ادھو ٹھاکرے گروپ الیکشن کمیشن میں ثبوت پیش کرے گا اور الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا کہ شیوسینا پارٹی اور پارٹی کا اصل نشان کس کا ہے۔ لیکن ایم ایل اے کی نااہلی کا مسئلہ اور پارٹی نشان کا مسئلہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اور ڈیفیکشن ایکٹ کے مطابق، عدالت کو ایکناتھ شندے سمیت 16 لوگوں کی اہلیت پر فیصلہ کرنا ہوگا اور اس کے بعد ریاست میں غیر قانونی و غیر آئینی شندے فڈنویس حکومت ختم ہوجائے گی۔
ادیواسی سماج کے فلاح وبہبود کے لیے شب وروز کام کریں گے: ڈاکٹر نامدیواسینڈی
مہاراشٹر پردیش ادیواسی کانگریس کے صدرکے عہدے پر ڈاکٹر نامدیو اسینڈی تقرری
ممبئی:آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قبائلی شعبہ کے صدر شیواجی راؤ موگھے نے گڈچرولی ضلع سے پارٹی کے سینئر اور تجربہ کار لیڈر کو سابق ایم ایل اے ڈاکٹرنامدیواسینڈی کومہاراشٹر پردیش آدیواسی کانگریس کا صدر مقرر کیا ہے۔
ڈاکٹر نام دیو اسینڈی نےMBBS,MDکی تعلیم حاصل کی ہے اورکانگریس پارٹی کے انتظامی شعبے میں وہ مختلف عہدوں پر کامیابی کے ساتھ فائز رہے ہیں۔ فی الوقت وہ ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ 2009 سے 2014 کے درمیان اسمبلی کے رکن کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔ 2014 اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں گڈچرولی-چیمور حلقہ سے کانگریس کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا تھا۔ 2014 سے 2021 تک وہ گڈچرولی ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر رہے۔ 1994 اور 1997 کے درمیان انہوں نے آدیواسی ودیارتھی سنگھ کے بانی صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ گڈچرولی ڈسٹرکٹ ٹرائبل بانس پروسیسنگ کوآپریٹیو کے بانی چیئرمین تھے۔ انہوں نے ضلع گڈچرولی، آدیواسی مدیا سماجی اصلاح سوسائٹی کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں۔ وہ آدیواسی سماج کی فلاح و بہبود اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
مہاراشٹر پردیش آدیواسی کانگریس کے صدرمقررہونے پرانہوں نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی قبائلی شعبے کے صدر شیواجی راؤ موگھے، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی و راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کی طرف سے دی گئی ذمہ داری کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کروں گا اور قبائلی سماج کے لیے شب وروزکام کروں گا نیز کانگریس پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی کوشش کروں گا۔
