ریاستی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال کی ریاستی الیکشن کمشنر سے تحریری شکایت اور مطالبہ
ممبئی: ریاست میں اس وقت ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے پیش نظر انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ہے، اس کے باوجود حکمراں پارٹی کے وزرا دانستہ طور پر اور کھلے عام اس ضابطے کی خلاف ورزی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل نے نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سے ایک دن قبل سانگلی ضلع میں منعقدہ ایک عوامی پروگرام کے دوران کہا کہ ضلع پریشد انتخابات میں مخالفین کا کوئی مستقبل نہیں ہے، وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے بجائے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں۔ یہ بیان نہ صرف ضابطۂ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ مخالف پارٹیوں کے امیدواروں پر براہ راست دباؤ ڈالنے اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی سنگین کوشش بھی ہے۔
ریاستی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے اس معاملے پر ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے کو خط لکھ کر شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ چندرکانت پاٹل کے خلاف انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور انتخابی عمل کے تحفظ کے لیے انہیں انتخابی مہم یا عوامی جلسوں سے روکا جائے۔ اپنے خط میں ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں انتخابات کا غیر جانبدار، شفاف اور خوف سے پاک ماحول میں انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، اسی مقصد کے تحت ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر ریاستی حکومت کے سینئر وزیر خود عوامی جلسوں میں مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تلقین کریں تو یہ محض ضابطے کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انتخابی عمل میں مداخلت کا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔
خط میں انہوں نے کہا ہے کہ چندرکانت پاٹل ایک ذمہ دار آئینی منصب پر فائز وزیر ہیں اور ان کے پاس انتظامی و سیاسی اختیار بھی موجود ہے۔ ایسے عہدے پر موجود شخص کی جانب سے دیا گیا یہ بیان مخالف امیدواروں میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے۔ امیدواروں کو دباؤ یا دھمکی کے ذریعے انتخابی میدان سے ہٹانے کی کوشش جمہوریت کی بنیادی روح پر حملہ ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی نشاندہی کی کہ اس سے قبل میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کونسل انتخابات کے دوران بھی حکمراں پارٹی کی جانب سے اسی طرح کے دباؤ کی سیاست کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ اب یہی طرزِ عمل ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات میں دہرایا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت، آئین اور غیر جانبدار انتخابی عمل کا تحفظ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں سخت کارروائی کے ذریعے اسی ذمہ داری کی تکمیل ہونی چاہیے۔
MPCC Urdu News 27 January 26.docx