حکومت کی ناکامی اور بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کے لیے بجٹ میں اعلانات کی بارش کی گئی ہے
’مہایوتی‘ حکومت میں مالیاتی نظم و ضبط کا فقدان، قرض لے کر تہوار منانے جیسی حالت
بجٹ میں کسانوں کی مدد، نوجوانوں کو نوکریوں اور خواتین کی حفاظت جیسے معاملات کو ٹھینگا دکھا یا گیا ہے
ممبئی: مہایوتی حکومت نے جو عبوری بجٹ پیش کیا ہے اس میں انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے کے ہر طبقے کو خوش کرنے کے لیے صرف اعلانات کیے گئے ہیں۔ سیاسی توڑ پھوڑ، مہنگائی، بے روزگاری، پیپر لیک، فرقہ وارانہ کشمکش کی وجہ سے ریاست کے عوام اس ٹرپل انجن والی حکومت سے سخت پریشان ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں عوام اس مہایوتی کا ‘حساب’ کرنے والے ہیں۔ حکومت تمام محاذ پر مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے ےک لیے اس نے اس عبوری بجٹ میں اعلانات کی بارش کی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ عبوری بجٹ پر یہ ردعمل مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے ظاہر کیا ہے۔
عبوری بجٹ پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت نے بڑے بڑے اعلانات کیے ہیں اور بتائے ہیں کہ کس محکمے کو کتنے روپے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن حکومت کے اب تک کی روش کو دیکھا جائے تو ان میں سے کسی کا بھی عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان اعلانات سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ ریاست کے کسان آج مشکلات کے دور سے گزر رہے ہیں لیکن حکومت ان کی کوئی مدد نہیں کر رہی ہے۔ ماضی میں اعلان کردہ امداد بھی ابھی تک نہیں ملی۔ ریاست کے نوجوان سڑکوں پر ہیں، ملازمین کی بھرتی نہیں ہو رہی ہے۔ مقابلہ جاتی امتحانات میں گھپلے ہو رہے ہیں، پیپر لیک کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وزیر خزانہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں کچھ اعلانات کیے لیکن سب جانتے ہیں کہ کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھلے کے مہاراشٹر میں ساوتری کی بچیاں کتنی محفوظ ہیں۔ آج ہزاروں خواتین اور بچیاں لاپتہ ہیں، خواتین پر تشدد بڑھ رہا ہے، حکومت اگر خواتین کو بااختیار بنانے میں واقعی سنجیدہ ہوتی تو خواتین پر تشدد میں اضافہ نہ ہوتا۔
نانا پٹولے نے کہا کہ حکومت ہر اجلاس میں سپلائی اور ڈیمانڈ لاتی ہے لیکن اس کا جواب نہیں ملتا کہ آگے کیا ہوا۔ حکومت نے پہلے 75000 کروڑ کی سپلائی ڈیمانڈ پیش کی تھی، پھر 40000 کروڑ کی اضافی ڈیمانڈ آئی اور اب 8000 کروڑ کی سپلائی ڈیمانڈ پیش کی گئی ہے۔ جب ریاست کے مالی حالات خراب ہوتی ہے، ریاست بدحالی کی شکار ہوتی ہے تو اتنی بڑےاعلانات کیے جاتے ہیں۔ مہایوتی کی مخلوط حکومت میں کوئی مالیاتی نظم و ضبط نہیں، ریاست کے سر پر قرسہ جات کا پہاڑ کھڑا ہوچکا ہے۔ یہ بالکل ’قرض لے کر تہوار منانے’ جیسا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ دعویٰ کہ بجٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے ترقی یافتہ ہندوستان کے تصور کے مطابق ہے، بالکل کھوکھلا ہے۔ کیونکہ جب مودی کی گارنٹی فراڈ ہے تو مودی کے نقش قدم پر چلنے والی اس عظیم مخلوط حکومت کی گارنٹی پر کون یقین کرے گا؟