MPCC Urdu News 26 Sep 25

کسان ہی ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں، حکومت کو آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنی چاہیے: جینت پاٹل

قرض معافی کا اعلان کرنے کا یہی سب سے موزوں وقت ہے، پی ایم کیئر کو مہاراشٹر کو 20 ہزار کروڑ روپے دینے چاہئیں

بیڑ :- این سی پی شرد پوار کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر جینت پاٹل نے آج بیڑ ضلع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسان ہی ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں اور کسانوں کی مدد کے لیے حکومت کو چار قدم آگے آنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مراٹھواڑہ کے علاقے میں شدید بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کسان مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔ جہاں جہاں ممکن ہے، میں خود جاکر حالات کا جائزہ لے رہا ہوں۔ اسی سلسلے میں آج بیڑ کے دورے پر آیا ہوں۔ حالات اتنے سنگین ہیں کہ کسانوں کی توقع ہے کہ حکومت فوری طور پر مدد کرے۔ ایف ڈی آر ایف کے اصولوں سے آگے بڑھ کر کسانوں کو مدد دی جانی چاہیے۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے کسانوں کے لیے چار قدم آگے بڑھ کر امداد فراہم کرے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ ہماری مانگ ہے کہ حکومت کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے کی مدد دے۔ جن کسانوں کی زمینیں دریاؤں کے کنارے ہیں وہاں حفاظتی باندھ تعمیر کی جائیں۔مویشیوں کے لیے بازار بھاؤ کے مطابق 60 سے 70 فیصد رقم دی جائے، بکری اور بھیڑ کے لیے 10 سے 12 ہزار روپے دیے جائیں، کیونکہ کسانوں کو دوبارہ کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آج کسان کھڑا نہ ہوا تو وہ اگلے چار سے پانچ سال کے لیے برباد ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بار بار قرض معافی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ حکومت ہر بار کہتی ہے کہ مناسب وقت پر قرض معاف کیا جائے گا، لیکن میرے خیال میں اب سب سے مناسب وقت ہے۔ اس سے بہتر کوئی دوسرا وقت نہیں ہوسکتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ریاستی حکومت کی مالی حالت کیا ہے، لیکن حکومت تقریبات، پروگراموں اور روشنیوں پر پیسہ خرچ کرتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ حکومت کو ہم ’مائی باپ‘ کہتے ہیں، اس لیے مائی باپ حکومت کو چاہیے کہ کوئی بہانہ کیے بغیر کسانوں کی مدد کرے۔ اپنے اخراجات کچھ وقت کے لیے کم کرے، مرکز سے مدد لے لیکن کسانوں کو سنبھالے، کیونکہ کسان ہی ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

جینت پاٹل نے کہا کہ پی ایم کیئر ایک نجی ٹرسٹ لگتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران یہ تاثر دیا گیا تھا کہ یہ ایک سرکاری ٹرسٹ ہے۔ اس وقت کے اپوزیشن لیڈروں نے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ میں چندہ نہ دے کر پی ایم کیئر فنڈ میں دینے کی اپیل کی تھی۔ اب موقع ہے کہ پی ایم کیئر مہاراشٹر کو 20 ہزار کروڑ روپے دے۔ اُس وقت ممکن ہے کہ ان کے پاس زیادہ پیسہ جمع ہوا ہو۔ جن لوگوں نے اُس وقت پی ایم کیئر فنڈ میں چندہ دینے کی اپیل کی تھی، انہیں چاہیے کہ اب وہی پیسہ واپس مانگیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومت نے ایک روپے میں فصل بیمہ اسکیم شروع کی تھی جو مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ فصل بیمہ اسکیموں میں سخت شرائط نہیں ہونی چاہئیں، ورنہ کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کسان پریمیم بھرتا ہے تو اچھا معاوضہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو فوری طور پر سیلابی قحط کا اعلان کرنا چاہیے۔ مراٹھواڑہ نے شدید قحط برداشت کیا ہے، اور اب مسلسل بارش ایک بڑا بحران بن گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس کے لیے عملی اقدامات کرے۔

NCP-SP Urdu News 26 sep 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading