وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کسانوں کے لیے دہلی سے ٹھوس پیکیج لے کر ہی واپس آئیں، ورنہ وہیں رہیں: ہرش وردھن سپکال
وزیراعلیٰ کو مراٹھواڑہ کے سیلاب متاثرین سے زیادہ سورج گڑھ کی کان کے مالک کی فکر ہے!
وزیر خزانہ اجیت پوار کا بیان شرمناک ہے، کسانوں کو پیسے دیتے وقت ہی پریشانی کیوں دکھتی ہے؟
کسانوں کے سوالوں پر کانگریس 3 اکتوبر کو پورے ریاست میں احتجاج کرے گی
ممبئی/بُلڈھانہ: مہاراشٹر کا کسان آسمانی اور سُلطانی دونوں آفتوں میں پھنس گیا ہے۔ مئی سے مسلسل جاری بارش نے خریف کا پورا سیزن برباد کر دیا اور ستمبر کی شدید بارش نے کسانوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے۔ کسان بحران میں ہیں مگر بی جے پی اتحاد کی حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کسانوں کے کھیتوں پر جا کر تصویریں کھنچوا کر واپس آگئے، لیکن کسی مدد کا اعلان نہیں کیا۔ اب وزیراعلیٰ دہلی گئے ہیں لیکن وہاں انہوں نے سیلاب متاثرین کی مدد پر بات کرنے کے بجائے سورج گڑھ کی لوہے کی کان پر بات کی، یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ کسانوں کے لیے مرکز سے ٹھوس پیکیج لے کر ہی وہ واپس آئیں ورنہ وہیں رک جائیں، یہ انتباہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے دیا ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے آج بُلڈھانہ ضلع کے موتالہ تعلقہ کے کام کھید، گڑبھلی، راہیرا، دابھول ٹانڈا، نلکُنڈ اور بُلدھانہ تعلقہ کے دیوُل گھاٹ، پاڑلی جیسے گاؤں کا دورہ کیا جہاں شدید بارش اور سیلاب سے نقصان ہوا ہے۔ اس دوران بُلدھانہ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر راہول بوندڑے اور رکن اسمبلی دھیرج لنگاڈے موجود تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی حکومت پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارش سے کسانوں کا بھاری نقصان ہوا ہے، اس لیے اولا-سوکھا (قدرتی آفت) قرار دے کر فی ہیکٹر 50 ہزار روپے دیے جائیں، جہاں زمین بہہ گئی ہے وہاں فی ایکڑ 2 لاکھ روپے دیے جائیں، ربیع سیزن کے لیے بیج اور کھاد مفت دی جائے اور کسانوں کو قرض معافی دی جائے – یہ کانگریس کا مطالبہ ہے۔ لیکن حکومت نے جو مدد کا اعلان کیا ہے وہ انتہائی حقیر ہے، جس سے کسانوں کے ہاتھ میں فی ہیکٹر 3 ہزار روپے بھی نہیں آئیں گے۔ کانگریس نے پہلے بھی کسانوں کے حقوق کے لیے احتجاج کیا ہے اور اب دوبارہ 3 اکتوبر کو پورے ریاست میں بڑا احتجاج کیا جائے گا، یہ بات سپکال نے کہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کانگریس حکومت میں تھی تو کسانوں کی ہمیشہ مدد کی گئی، تو اب کی حکومت کو ہی کیا پریشانی ہے؟ پیسوں کا بہانہ نہیں چلے گا۔ وزیر خزانہ اور نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کو شرم آنی چاہیے۔ اڈانی کی فائل پر دستخط کرتے وقت یا 88 ہزار کروڑ کے شکتی پیٹھ ہائی وے کو منظوری دیتے وقت انہیں یہ پریشانی کیوں نظر نہیں آئی؟
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس ہمیشہ کسی نہ کسی سے متنازعہ بیان دلواتے ہیں تاکہ اصل مسائل سے دھیان ہٹایا جا سکے۔ اب بھِڑے کا متنازعہ بیان بھی کسانوں کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ لیکن بھِڑے نے "ہجڑے" کس کو کہا؟ ڈانڈیا کھیلنے والے تو ہندو ہی ہیں، تو کیا ہندوؤں کو ہی بھِڑے نے ’ہانڈگے‘ کہا ہے؟ – یہ پلٹ سوال سپکال نے اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلِیان میں 72 سالہ دلت کانگریسی کارکن کے ساتھ بی جے پی کے غنڈوں نے ذات پات پر مبنی گالیاں دے کر شرمناک حرکت کی۔ یہ غنڈے بی جے پی کے ریاستی صدر کے ہی گاؤں کے ہیں۔ اس سے بی جے پی کی اصل ثقافت ظاہر ہو جاتی ہے۔ ان غنڈوں پر سخت کارروائی ہونی چاہیے – یہ کانگریس کا مطالبہ ہے۔ کانگریس پارٹی پگارے اس کارکن کے ساتھ کھڑی ہے اور جلد ہی ان کا بڑا اعزاز بھی کیا جائے گا، یہ اطلاع ریاستی صدر سپکال نے دی۔