آئی آئی ٹی بمبئی کا نام بدل کر آئی آئی ٹی ممبئی کرنے کا مطالبہ

این سی پی-ایس پی کی جانب سے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس کو مکتوب

ممبئی: این سی پی- ایس پی کے ممبئی یوتھ ونگ کے صدر اور پارٹی کے ریاستی ترجمان ایڈووکیٹ امول ماتیلے نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے تحریری مطالبہ کیا ہے کہ کہ ملک کے ممتاز ترین تکنیکی ادارے آئی آئی ٹی بمبئی کے نام میں موجود برطانوی دور کے لفظ ’بمبئی‘ کو تبدیل کرکے آئی آئی ٹی ممبئی کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نام آج کی سرکاری پالیسی، عوامی جذبات اور مہاراشٹر کی ثقافتی شناخت سے میل نہیں کھاتا، اس لیے حکومت کو فوری طور پر نام کی تبدیلی کا باضابطہ عمل شروع کرنا چاہیے۔

ایڈووکیٹ ماتیلے نے اپنے مکتوب میں مرکزی وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی کے حالیہ بیان پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے نام میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ ماتیلے کے مطابق اس بیان نے ریاست کے لاکھوں مراٹھی بولنے والے شہریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ ’ممبئی‘ صرف ایک شہر کا نام نہیں بلکہ مراٹھی تہذیب، تاریخ اور شناخت کی علامت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ’بمبئی‘ دراصل برطانوی حکمرانوں نے ’ممبا دیوی‘ کے اصل نام کو بگاڑ کر اختیار کیا تھا اور 1995 سے حکومت مہاراشٹر نے باضابطہ طور پر ’بمبئی‘ کی جگہ ’ممبئی‘ کو سرکاری نام تسلیم کر رکھا ہے، جس کا نفاذ ہر سرکاری، انتظامی اور قانونی شعبے میں ہو چکا ہے۔

امول ماتیلے نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں گزشتہ کئی برسوں سے نوآبادیاتی دور کی اصطلاحات کو تبدیل کرکے تاریخی اور مقامی ناموں کی بحالی کو فروغ دے رہی ہیں۔ چنانچہ کلکتہ کو کولکاتا، مدراس کو چنئی اور ترواننت پورم کو ترووننت پورم کر دیا گیا۔ ایسے میں یہ بات انتہائی غیر منطقی ہے کہ ممبئی جیسے عالمی شہر کی نمائندگی کرنے والے قومی سطح کے ادارے کے نام میں آج بھی ’بمبئی‘ برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی ایک عالمی برانڈ ہے۔ ماتیلے کے مطابق نام کی تبدیلی سے نہ صرف قومی سطح پر ادارے کی شناخت بہتر ہو گی بلکہ مراٹھی نوجوانوں میں جذباتی وابستگی اور نمائندگی کا احساس بھی بڑھے گا۔

NCP-SP Urdu News 25 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading