بلدیاتی اور نگر پنچایت انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس کے 41 نو منتخب میئرز کا شاندار استقبال
ممبئی: پونے کے سابق میئر اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شہر صدر پرشانت جگتاپ نے آج باضابطہ طور پر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ شمولیت مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال کی موجودگی میں کانگریس پارٹی کے صدر دفتر تِلک بھون میں ہوئی۔ اس موقع پر پونے سے تعلق رکھنے والے این سی پی کے متعدد عہدیداران اور کارکنان نے بھی کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جسے آئندہ بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں کانگریس کے لیے ایک بڑی سیاسی تقویت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ سیاست میں اکثر لوگ اقتدار کے طلوع ہوتے سورج کو سلام کرتے ہیں، مگر پرشانت جگتاپ نے اقتدار کے بجائے نظریے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شیو، شاہو، پھولے اور امبیڈکر کی فکر اور کانگریس کی نظریاتی سیاست ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سپکال نے کہا کہ آج کچھ پارٹیاں صرف طاقت، دولت اور اقتدار کے بل پر سیاست کر رہی ہیں، جب کہ کانگریس آج بھی سماجی انصاف، مساوات اور بھائی چارے کی نظریاتی جدوجہد لڑ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں پرشانت جگتاپ کا کانگریس میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریاتی سیاست آج بھی زندہ ہے۔
مہاراشٹر اسمبلی میں کانگریس کے لیڈر وجے وڈٹیوار نے کہا کہ پرشانت جگتاپ نے ذات پات اور فرقہ وارانہ سیاست کرنے والی پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کیا اور کئی سیاسی پیشکشوں کو ٹھکرا کر کانگریس کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ جو رہنما شیو، شاہو، پھولے اور امبیڈکر کی فکر پر سمجھوتہ نہیں کرتے، وہی دراصل مستقبل کی سیاست کی بنیاد بنتے ہیں اور ایسے رہنما ہوں تو 2029 کا سیاسی منظرنامہ کانگریس کے حق میں ہوگا۔ سابق وزیر نسیم خان نے کہا کہ آج ملک کو جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی شدید ضرورت ہے۔ کسان، خواتین، نوجوان اور بے روزگار شدید مسائل کا شکار ہیں، مگر اقتدار میں بیٹھی پارٹیاں نفرت اور توڑ پھوڑ کی سیاست میں مصروف ہیں۔ ایسے وقت میں صرف کانگریس کی فکری سیاست ہی ملک کو بچا سکتی ہے۔
پرشانت جگتاپ نے اس موقع پر کہا کہ کانگریس 135 سالہ قدیم پارٹی ہے، جو ایک وسیع سمندر کی مانند ہے، جسے کوئی طوفان متزلزل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ شیو، شاہو، پھولے، امبیڈکر، گاندھی اور نہرو کی فکری وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کی جدوجہد فرقہ واریت اور بدعنوانی کے خلاف ہے اور آج بی جے پی کو حقیقی سیاسی چیلنج صرف کانگریس ہی دے سکتی ہے۔ اسی تقریب میں بلدیاتی اور نگر پنچایت انتخابات میں کامیاب ہونے والے کانگریس کے 41 نو منتخب میئرز کا شاندار استقبال بھی کیا گیا۔ ریاستی کانگریس کے صدر نے اس موقع پر کہا کہ انتہائی نامساعد حالات، پیسے کے بے تحاشا استعمال، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے دباؤ کے باوجود کانگریس کارکنوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور ریاست میں کانگریس کو ایک مضبوط اپوزیشن کے طور پر قائم رکھا۔ تقریب کے اختتام پر آئندہ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے ’کانگریس لڑے گی، مہاراشٹر جیتے گا‘ کے عنوان سے انتخابی ٹیگ لائن اور ٹیزر بھی جاری کیا گیا۔
MPCC Urdu News 26 December 25.docx