MPCC Urdu News 26 April 21

پی ایم کیئر فنڈ سے ریاست کو آکسیجن پلانٹ کے لیے ایک نیا پیسہ نہیں ملا: اتل لونڈھے

جھوٹے الزامات لگانے والے مہاراشٹردروہی پرساد لاڈ فوراً معافی مانگیں

ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے پی ایم کیئر فنڈکے پیسے سے آکسیجن پلانٹ لگانے اور بی جے پی لیڈران کی جانب سے اس معاملے میں ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پرکانگریس نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے اور عوام کو گمراہ نیز مہاراشٹر کو بدنام کرنے کی پاداش میں بی جے پی ایم ایل اے پرساد لاڈ سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے نے اس ضمن میں آج ریاستی کانگریس کے دفتر میں میڈیا سے خطاب کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے جنوری میں ملک بھر میں آکسیجن پلانٹ لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں ملک بھر میں 153 پلانٹ لگائے جانے تھے، جن میں سے 33 پلانٹس لگانے کا عمل جاری ہے اور آج تک ان میں سے کسی بھی پلانٹ نے کام کرنا شروع نہیں کیا ہے۔ یہ تمام پلانٹس مرکزی حکومت کے محکمہ صحت کے ماتحت مرکزی میڈیکل سپلائی اسٹور کے ذریعے طور پر لگائے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کو اس کے لئے مرکز کی جانب سے کوئی بھی مالی اعانت نہیں دی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت، مہاراشٹرا میں 10 پلانٹس لگائے جانے تھے، لیکن مرکزی حکومت نے ابھی تک کسی بھی پلانٹ کی تعمیر کے لئے ٹینڈر کا عمل تک شروع نہیں کیا ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود بی جے پی لیڈران مرکزی حکومت کے ناکامی کو چھپا کر مہاراشٹرا کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ بی جے پی کے ایم ایل اے پرساد لاڈ مہاراشٹر مخالف گروہ کے رکن ہیں۔ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر لوگوں کو گمراہ کرنے پر انہیں مہاراشٹرسے معافی مانگنی چاہئے،جبکہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005کی دفعہ 51اور 54 کے تحت افواہ پھیلاکر لوگوں کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے کی پاداش میں ریاستی حکومت کو لاڈ کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ملک بھر میں ہر روز ہزاروں افراد مر رہے ہیں۔ کرونا بحران کے دوران مرکزی حکومت نے آکسیجن، ریمیڈیسیور انجکشن اور دیگر طبی سازوسامان کی خریداری اور تقسیم کے نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، اس لیے ریاستی حکومتیں انہیں کھلے بازارسے نہیں خرید سکتی اور مرکزی حکومت فراہم بھی نہیں کرتی ہے۔ وزیر اعظم کیئر فنڈ کے ذریعہ آکسیجن پلانٹ لگانے کے لئے مرکزی حکومت کوئی فنڈ ریاستی حکومت کو نہیں دے رہی ہے۔ اس پلانٹ کی تعمیر سنٹرل میڈیکل سپلائی اسٹور کے ذریعے وزارت صحت کے ماتحت کی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی ایسے کام میں بدعنوانی کیسے ہوسکتی ہے جس کے لئے ریاست کو ایک نیا پیسہ نہ ملا ہو؟اگر پرساد لاڈ یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں بدعنوانی ہوئی ہے تو پھر ممکن ہے یہ بدعنوانی مرکزی حکومت کی سطح پر ہوئی ہو۔

اس اسکیم کے تحت مرکزی حکومت نے مہاراشٹر کے واشم، ستارا، ہنگولی، احمد نگر، بھنڈارا، رائیگڈھ، رتناگری، بلڈھانہ، عثمان آباد اور سندھودرگ میں آکسیجن پلانٹس لگانے سے متعلق خطوط جاری کیے ہیں۔ مرکزی حکومت خود ہی یہ پلانٹ لگانے والی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں ایک بھی آکسیجن پلانٹ نے آج تک کام کرنا شروع نہیں کیا ہے جبکہ مہاراشٹر میں ابھی تک ایک بھی پلانٹ کا کام تک شروع نہیں ہوا ہے۔یہ مرکزی حکومت کی کھلی ناکامی ہے جس پر پردہ ڈالنے کے لیے پرساد لاڈ بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں۔ مرکزی محکمہ صحت کے جوائنٹ سکریٹری ونایک نپون نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے یہ کہاہے کہ پی ایم کیئر فنڈ کے ذریعے دہلی میں لگائے جانے والے نو آکسیجن پلانٹوں میں سے صرف ایک پلانٹ قائم کیا گیا ہے لیکن وہ بھی کام نہیں کررہا ہے۔ دیگر پلانٹ کب لگائے جائیں گے؟ اس کے جواب وہ عدالت کو نہیں دے سکے۔ یہ صورت حال ملک بھر میں ہے۔مرکزی حکومت نے PSA پلانٹ کی تعمیر کے اعلان وتشہیر کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ کورونا کے اس بحران میں مرکزی وزارت صحت کے تحت سنٹرل میڈیکل سپلائی اسٹور کا کردارمشکوک ہے اور اس سسٹم کی ناکامی کی وجہ سے روزانہ ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ اس لیے سینٹرل میڈیکل سپلائی اسٹور کی تفتیش کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف قتل کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔