بی جے پی حکومت کی اپنے مخالفین کو جیل میں ڈالنے کی روایت ہے

10
  • دیویندر فڈنویس کے الزامات گویا’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘
  • بی جے پی کے ذریعے ای ڈی،سی بی آئی وانکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال

ممبئی:گزشتہ 8 سالوں میں بی جے پی نے ای ڈی، سی بی آئی وانکم ٹیکس محکمہ کے ذریعے اپوزیشن پارٹی کے کئی لیڈروں کوجھوٹے مقدمات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا ہے۔ایم وی اے کے دو وزراء کو بھی اسی طرح جیل بھیجاگیا۔ بی جے پی نے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے فون ٹیپ کرکے بلیک میل کرنے کی سیاست بھی کی ہے اور سیاسی دشمنی کی وجہ سے مخالفین کو جیل میں ڈالنے کی اس کی روایت ہے۔یہ الزام آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے عائد کیا ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڈنویس کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت انہیں جیل بھیجنے والی تھی، اتل لونڈھے نے کہا کہ سیاسی نفرت کی وجہ سے مخالفین کو جیل بھیجنے کا کام بی جے پی حکومت کرتی ہے۔ سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کو ایک خط کی بنیاد پر گرفتار کر کے ڈیڑھ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا اور اس فرضی خط کو بھیجنے والے پرم ویر سنگھ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ انیل دیشمکھ کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے عدالت نے بھی اس معاملے کا تذکرہ کیا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ سب ایک سازش کے تحت ہوا ہے۔ کارروائی کے نام پر 100 سے زائدچھاپے مارکر دیشمکھ کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا۔ شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کو بھی اسی طرح کے جھوٹے کیس میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ سابق وزیر نواب ملک کے خلاف 25 سال پرانا مقدمہ دوبارہ کھود کر نکالا گیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔یہ سیاسی جبر خود بی جے پی کا شروع کیا ہوا ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے سمیت کچھ سیاسی لیڈروں کافون غیر قانونی طور پر ٹیپ کیا گیا۔ نانا پٹولے کافون نام امجد خان کے نام سے اورمنشیات کا کاروبار کرنے والا ظاہر کرکے ٹیپ کیا گیا۔ اس معاملے میں آئی پی ایس افسر رشمی شکلا کو ای ڈی حکومت نے کلیٹ چٹ دینے کی کوشش کی لیکن وہ عدالت میں نہیں ٹک سکا۔ اس معاملے میں بھی عدالت نے پھٹکار لگائی، یہ پاپ فڈنویس حکومت کا ہے۔شیوسینا ممبرپارلیمنٹ بھاؤنا گولی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بی جے پی کے کریٹ سومیا نے کئی پریس کانفرنسیں کیں۔ بھاونا گاولی ایک سال تک لاپتہ ہوگئی تھیں اورجیسے ہی ریاست میں ای ڈی حکومت برسرِ اقتدار آئی وہ براہ راست وزیر اعظم کو راکھی باندھتی ہوئی نظر آئیں۔ بی جے پی اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں پر جھوٹے الزامات لگاتی ہے اورپھران کے پیچھے ای ڈی، سی بی آئی وانکم ٹیکس محکمے ذریعے پریشان کرتی ہے اور پھر جب وہی لوگ بی جے پی میں شامل ہو جاتے ہیں تو پھر ووہ گنگا نہا کر مقدس کیسے ہو جاتے ہیں؟یہ سوال آج ہرکوئی کرتا ہے۔ کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھی سیاسی انتقام کے تحت تفتیش کے نام پر ای ڈی کے دفتر میں گھنٹوں پریشان کیا گیا۔بی جے پی کی یہ موڈس آپرینڈی ہے۔ کانگریس پارٹی نے بھی اس طرح کی انتقامی سیاست نہیں کی۔

لونڈھے نے کہا کہ فڈنویس حکومت کے دوران سوشل میڈیا پر تبصرے کی وجہ سے بھی لوگوں کے خلاف پولیس کارروائی کی گئی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تفتیشی ایجنسیوں کی مدد سے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو ہراساں کرتی رہی ہے اور کررہی ہے۔ دیویندر فڈنویس کا الزام نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘ جیسا ہے۔